اسٹیبلشمنٹ کی طاقت بدستور برقرارہے، کسی بڑی تبدیلی کے آثار نہیں، منیب فاروق
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ کسی کا کریئر ختم ہو رہا ہے اور جاتے جاتے وہ ریفارمز کا ایجنڈا لے کر آ رہے ہیں تو ایسا نہیں ہے، حوصلے بھی بلند ہیں وقت بھی ساتھ ہے اور ایجنڈا بھی بہت بڑا ہے، تجزیہ کار کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تجزیہ کار منیب فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ بدستور مضبوط ہے اور اس کی پالیسیوں یا کردار میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں میں گفتگو کرتے ہوئے منیب فاروق کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کا زور پہلے کی طرح برقرار ہے اور معاملات اسی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی اہم شخصیت کا سیاسی یا پیشہ ورانہ کردار اختتام کے قریب ہے اور وہ جاتے جاتے اصلاحات کا کوئی ایجنڈا لے کر سامنے آ رہی ہے تو یہ تاثر درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حلقوں کے حوصلے بلند ہیں، انہیں وقت بھی حاصل ہے اور ان کے پاس ایک وسیع ایجنڈا موجود ہے، جس پر وہ آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔
موجودہ حالات میں طاقت کے توازن میں کسی نمایاں تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کا زور برقرار ہے اور اُسی تیزی سے جاری ہے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ کسی کا کریئر ختم ہو رہا ہے اور جاتے جاتے وہ ریفارمز کا ایجنڈا لے کر آ رہے ہیں تو ایسا نہیں ہے حوصلے بھی بلند ہیں وقت بھی ساتھ ہے اور ایجنڈا بھی بہت بڑا ہے، منیب فاروق کے… pic.twitter.com/Fn7HJI16ZW
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) July 31, 2026
واضح رہے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ ملک کا موجودہ انتظامی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے۔ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اس کے ذریعے مسائل حل کرنا ممکن نہیں رہا۔ محسن نقوی کے اس بیان نے ملکی سیاست میں ایک ہلچل مچا دی ہے اور ملک میں ایک نئے نظام کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
