خالد مقبول نرم مگر فاروق ستار گرم! ایم کیو ایم پی کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے

کراچی (قدرت روزنامہ)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بہادرآباد مرکز میں دو مخالف گروپس کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد پارٹی قیادت نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے رابطے اور وضاحتیں شروع کر دی ہیں۔
پارٹی رہنماؤں کی جانب سے معاملے کو سلجھانے کے لیے نرم اور مفاہمانہ موقف اختیار کیا گیا ہے تاہم پارٹی کا مرکزی دفتر تاحال بند ہے جبکہ یہ سوال برقرار ہے کہ اندرونی اختلافات کس حد تک شدت اختیار کر چکے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اتوار کی رات پیش آنے والا معاملہ کارکنوں کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمی اور باہمی تلخی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اسے ایک افسوسناک واقعہ قرار دیا اور واضح کیا کہ اسے پارٹی کے اندر کسی بڑی تقسیم یا تنظیمی بحران کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے مطابق پارٹی قیادت نے واقعے کے بعد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور اب حالات بتدریج معمول کی جانب بڑھ رہے ہیں تاہم پارٹی سربراہ کا محتاط موقف اس شدت کے مقابلے میں مختلف نظر آتا ہے جو اتوار کی رات دیکھنے میں آئی جب بہادرآباد مرکز میں شدید بدنظمی ہوئی، کرسیاں ایک دوسرے پر پھینکی گئیں، پتھراؤ کیا گیا، ہوائی فائرنگ کے باعث کارکنوں اور اطراف کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلا جبکہ ایک شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع سامنے آئی۔
پارٹی کی جانب سے واقعے کو کارکنوں کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے اور اسے خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے گروپس کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا حالانکہ یہ تنازع انہی دونوں دھڑوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کے درمیان سامنے آیا تھا۔
جھڑپ کے بعد بہادرآباد مرکز کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ دفتر کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی سرگرمیوں کا اہم مرکز اور پارٹی اختیار کی علامتی جگہ سمجھا جاتا ہے تاہم اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ مرکز کب کھولا جائے گا اور دوبارہ سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے کن حالات کو ضروری سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب ڈاکٹر فاروق ستار نے واقعے پر نسبتاً سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ تصادم کے دوران پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
فاروق ستار نے سبین غوری، منگلا شرما اور امین الحق کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے رہنما ہیں جن کے ساتھ پارٹی کا کئی دہائیوں پر مشتمل سیاسی سفر وابستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احترام کا معیار اس بات سے تبدیل نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی شخص عام کارکن ہے یا پارٹی کا اہم عہدیدار۔
انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کے معاملے پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں مختلف آرا کا ہونا ایک معمول کی بات ہے اور یہ اندرونی جمہوری عمل کی نشانی بھی ہو سکتی ہے لیکن اختلافات کو اس انداز میں سڑکوں یا عوامی سطح پر لے آنا جیسا کہ اتوار کو ہوا ایک غلط طرزِ عمل تھا۔
فاروق ستار کے بیان سے یہ اشارہ ملا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اندر سے پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف سامنے آیا ہے کہ بہادرآباد کا واقعہ محض ایک اچانک ہونے والا جھگڑا نہیں تھا بلکہ یہ ان اختلافات کا اظہار تھا جو کافی عرصے سے پارٹی کے اندر موجود چلے آ رہے تھے۔
