بلاول بھٹو کا وفاقی حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

آزاد کشمیر (قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کے خلاف ملک بھر میں سیاسی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔
آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دوست غور سے سن لیں، پیپلزپارٹی میدان میں آ رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پونچھ جائیں گے اور کارکنان تیاری کریں۔
بلاول بھٹو نے ضلع باغ میں جلسے کا اعلان بھی کیا۔بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ صاف و شفاف انتخابات نہیں تھے بلکہ دھاندلی زدہ انتخابات تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود عوام نے پاکستان پیپلزپارٹی کو 9 انتخابی نشستوں پر کامیاب کروایا۔
پیپلزپارٹی چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ میرپور اور مظفرآباد میں پیپلزپارٹی سے جو نشستیں چھینی گئیں وہ واپس دلوائیں گے۔
انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ 4 اگست کو باذل نقوی اور جاوید ایوب کو مظفرآباد سے کامیاب کرائیں اور مسلم لیگ (ن) کی سازش ناکام بنائیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ 10 اگست کو پونچھ کی باری ہے، جہاں وہ باغ میں جلسہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمت نہیں ہارتی، پیچھے نہیں ہٹتی اور کبھی میدان نہیں چھوڑتی، کارکن آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے تیار رہیں۔
دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے آزاد کشمیر انتخابات کے معاملے پر مسلم لیگ (ن)، الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کو شکست دینے کے لیے مخصوص گٹھ جوڑ کیا گیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی کشمیری عوام کے مفادات کے لیے آخری مرحلے تک میدان میں رہے گی اور کبھی سیاسی میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بھی انتخابات میں پارٹی کا کردار ادا کیا، جبکہ دھوپ میں بارش نظر آنے جیسے جواز پیش کیے گئے اور لینڈ سلائیڈنگ کا بہانہ بنایا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے مبینہ طور پر دھاندلی کی، ٹھپے لگائے گئے اور پیپلزپارٹی نے تحریری شکایات بھی جمع کرائیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ وفاق، پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کا گٹھ جوڑ پیپلزپارٹی کے خلاف سرگرم تھا۔
سندھ کے سینئر وزیر نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں 2024 کے عام انتخابات کی تاریخ دہرائی گئی اور پہلے و دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کے مفادات کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے پاس دھاندلی کے ثبوت موجود ہیں، پولنگ ایجنٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ نکیال میں پیپلزپارٹی کے کارکن مختار کو شہید کیا گیا۔
شرجیل میمن نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لہجے اور الفاظ سب نے دیکھے، ان میں کوئی پشیمانی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ پی ٹی آئی ٹو کی طرح کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی بدتمیزی نہیں کرتی بلکہ دلیل کے ساتھ بات کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی انتخابی انتظامات کا جائزہ لینے گئے تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو بتانا چاہیے کہ وہ الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے ساتھ کیا کر رہے تھے۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ 2024 کے انتخابات میں فارم 47 کے ذریعے حکومت قائم ہوئی، تاہم پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں بنی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلزپارٹی کو وفاقی وزارتوں اور اڑھائی، اڑھائی سالہ وزیراعظم فارمولے کی پیشکش ہوئی، جسے مسترد کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔
