سندھ کابینہ، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور انشورنس نظام میں بڑی اصلاحات منظور

کراچی(ـقدرت روزنامہ) سندھ کابینہ نے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور انشورنس نظام سے متعلق اہم اصلاحات منظور کرلیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں طرزِ حکمرانی، عوامی انتظام، انفرا اسٹرکچر، تعلیم، صحت، محنت کشوں کی فلاح اور معاشی اصلاحات سے متعلق 20 سے زائد نکات پر غور کیا گیا۔
سندھ کابینہ نے محکمہ ایکسائز کی جانب سے گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیکس اور انشورنس نظام میں اصلاحات کی تجاویز منظور کر لیں۔ کابینہ نے آف روڈ اور تباہ شدہ گاڑیوں کی ڈی رجسٹریشن پالیسی کی بھی منظوری دی، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے رجسٹریشن نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کی منظوری بھی دے دی۔
فیصلے کے مطابق تباہ، مستقل ناقابلِ استعمال یا سسٹم سے خارج گاڑیوں کے مالکان 30 ستمبر 2026 تک تحریری اعلامیہ جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ جولائی 2010 سے ٹیکس ادا نہ کرنے اور اعلامیہ جمع نہ کرانے والی گاڑیوں کو آف روڈ تصور کیا جائے گا۔
اسی طرح غیر ادا شدہ واجبات رکھنے والی آف روڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن 30 روز بعد معطل کر دی جائے گی، جبکہ واجبات کی مسلسل عدم ادائیگی پر 60 روز بعد ایسی گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔
سندھ کابینہ نے لائسنس یافتہ موٹر ڈیلرز کے لیے ہولڈنگ پیریڈ ریلیف کی بھی منظوری دی۔ فیصلے کے مطابق دوبارہ فروخت کے لیے حاصل کی گئی گاڑیاں فوری رجسٹریشن کے بغیر رکھی جا سکیں گی اور ابتدائی ہولڈنگ مدت 6 ماہ ہوگی، جس میں 2 مرتبہ 3، 3 ماہ کی توسیع ممکن ہوگی، تاہم مجموعی مدت 12 ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ ہولڈنگ پیریڈ کے دوران فی گاڑی صرف 100 روپے رپورٹنگ فیس ادا کرنا ہوگی، جبکہ اس عرصے میں موٹر ڈیلر کا لائسنس مؤثر رکھنا لازمی ہوگا۔
سندھ کابینہ نے موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس (MTPI) کے تسلسل سے متعلق اہم اصلاحات بھی منظور کر لیں۔
فیصلے کے مطابق گاڑی کی ملکیت تبدیل ہونے پر بھی موجودہ موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس اپنی مدت مکمل ہونے تک برقرار رہے گی، جس سے ایک ہی گاڑی کے لیے دوبارہ انشورنس کرانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ انشورنس اصلاحات سے گاڑی خریدنے والوں کے غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس سے متعلق اصلاحات کو ایس ای سی پی، سی ڈی سی اور انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی اصولی حمایت بھی حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے عوامی سہولت، شفافیت اور بہتر انتظامی نظام کے لیے ان اصلاحات کی منظوری دے دی۔
