نادرا کی 1979ء سے پہلے کے ثبوت کی شرط انتہائی سخت، غیر منصفانہ اور عوام دشمن پالیسی ہے، فوری نظرثانی کی جائے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
شناختی دستاویزات کے حصول کے لیے 1979 کے بجائے کم از کم 1985ء کے ثبوت کو تسلیم کیا جائے، اراکینِ اسمبلی یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں: مطالبہ

تمام پشتون شہریوں کو ایک ہی سخت معیار کے تحت مشکلات میں ڈالنا انصاف کے منافی ہے، شناختی کارڈ ہر شہری کا بنیادی حق ہے: پریس ریلیز
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے نادرا کی جانب سے پشتون عوام کے شناختی کارڈ، شہریت اور دیگر شناختی دستاویزات کے معاملات میں 1979ء سے پہلے کے ثبوت پیش کرنے کی شرط کو انتہائی سخت، غیر منصفانہ اور عوام دشمن پالیسی قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور نادرا سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پالیسی پر فوری نظرِثانی کی جائے اور عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جائے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً پشتونخوا کے عوام کی ایک بڑی تعداد کو شناختی دستاویزات کے حصول اور تصدیق کے عمل میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے خاندان جن کے پاس کئی دہائیوں پرانے سرکاری ریکارڈ، دستاویزات یا 1979ء سے پہلے کے مطلوبہ ثبوت موجود نہیں، انہیں محض اس بنیاد پر شناختی مسائل سے دوچار کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پارٹی نے کہا کہ 1979ء سے پہلے کے ثبوت کو لازمی قرار دینا زمینی حقائق، تاریخی حالات اور عام شہریوں کی مشکلات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ دیہی اور قبائلی علاقوں میں کئی خاندانوں کے پاس پرانے سرکاری ریکارڈ محفوظ نہ رہنے کی متعدد وجوہات ہیں، جبکہ ماضی میں ریکارڈ رکھنے کا نظام بھی آج کے معیار کے مطابق منظم اور جامع نہیں تھا۔ اس لیے ہر شہری سے کئی دہائیاں پرانا دستاویزی ثبوت طلب کرنا ایک غیر عملی اور غیر منصفانہ طریقۂ کار ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا مطالبہ ہے کہ 1979ء سے پہلے کے ثبوت کی شرط ختم یا اس میں فوری طور پر ترمیم کرتے ہوئے کم از کم 1985ء سے پہلے کے قابلِ قبول سرکاری ثبوت کو تسلیم کیا جائے اور ایسے تمام شہریوں کے لیے آسان، شفاف اور قابلِ عمل طریقۂ کار وضع کیا جائے جو اپنی شہریت اور شناخت ثابت کرنے کے لیے دستیاب قانونی دستاویزات پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ شناختی کارڈ کسی بھی شہری کا بنیادی قانونی اور شہری حق ہے۔ شناختی دستاویزات کے حصول میں غیر ضروری رکاوٹیں نہ صرف شہریوں کو سرکاری، تعلیمی، معاشی اور روزگار کے مواقع سے محروم کرتی ہیں بلکہ بینکاری، سفری سہولیات، جائیداد، سرکاری خدمات اور دیگر بنیادی معاملات میں بھی شدید مشکلات پیدا کرتی ہیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے حکومتِ پاکستان اور نادرا سے مطالبہ کیا ہے کہ پشتون عوام کے خلاف کسی بھی امتیازی یا غیر عملی طریقۂ کار کو فوری طور پر ختم کیا جائے، نادرا کے تصدیقی نظام کو عوام دوست، شفاف اور یکساں بنایا جائے اور ایسے خاندانوں کے لیے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے جائیں جن کے پاس پرانے ریکارڈ دستیاب نہیں۔ پارٹی نے کہا کہ اگر کسی شہری کے بارے میں قانونی یا دستاویزی اعتراض موجود ہو تو اس کی انفرادی بنیادوں پر مکمل تحقیقات کی جائیں، لیکن تمام پشتون شہریوں کو ایک ہی سخت معیار کے تحت مشکلات میں ڈالنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے کارکنان اور عوامی حلقوں کی جانب سے تمام اراکینِ اسمبلی اور سینیٹرز سے بھی پُرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس اہم عوامی مسئلے کو قومی اسمبلی کے فلور پر مؤثر انداز میں اٹھائیں، حکومت اور متعلقہ اداروں سے اس پالیسی کی وضاحت طلب کریں اور 1979ء سے پہلے کے ثبوت کی شرط میں ترمیم کرکے 1985ء سے پہلے کے ثبوت کو قابلِ قبول بنانے کے لیے پارلیمانی سطح پر بھرپور آواز اٹھائیں۔ پارٹی نے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف چند افراد نہیں بلکہ لاکھوں متاثرہ پشتون شہریوں کے لیے شناخت، شہریت اور بنیادی شہری حقوق کے حصول میں آسانی پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے حکومتِ پاکستان اور نادرا کو چاہیے کہ وہ عوامی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے فوری اور مثبت فیصلہ کریں۔
