27 ستمبر کو عمران خان کی رہائی کیلئے سب سے آگے میں ہوں گا، سہیل آفریدی

بنوں (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف بڑے مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اس احتجاج میں سب سے آگے میں خود موجود ہوں گا۔ بنوں میں عوامی اجتما ع سے خطاب میں انہوں نے کارکنوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے بالکل نہیں ڈرنا، ہم 20 لاکھ سے زائد کی تعداد میں نکلیں گے اور جب اتنی بڑی تعداد سڑکوں پر ہوگی تو ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہوگا، ظالم جتنا بڑا ہوتا ہے اتنا ہی ڈرپوک ہوتا ہے، میں آپ کے آگے کھڑا ہوں گا اور کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ آپ پر گولیاں چلا سکے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی سیٹ اپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں آپ کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا رہا کیونکہ وہ عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں اور انہوں نے خیبرپختونخواہ کو ایک تجربہ گاہ بنا رکھا تھا، لیکن اس دفعہ خیبرپختونخواہ میں ایک ‘باغی کی حکومت’ ہے جو اپنے ہر ایک فیصلے میں مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہے۔
صوبے میں امن و امان اور پولیس فورس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کا قیام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، میں پولیس کے جوانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ان کے پیچھے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوں، پولیس کو جس جدید ترین اسلحے کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لیے فنڈز دیے جا رہے ہیں اور ان کے بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھی خطیر رقم فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے ماضی اور حال کے امن و امان کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء سے 2022ء تک عمران خان کے دورِ حکومت میں اس پورے علاقے میں بالکل دہشت گردی نہیں تھی بلکہ ہر طرف امن و سکون تھا۔ تاہم آج جو بدامنی اور دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی ہے اس سے سب سے زیادہ ساؤتھ ریجن اور بالخصوص بنوں کا علاقہ متاثر ہوا ہے، اس ساری دہشت گردی کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت اور انہیں مسلط کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے۔
