کون سے پاکستانی سعودی عرب میں گرفتار یا ڈی پورٹ ہوسکتے ہیں؟ سفارتخانے کا انتباہ

سعودی عرب (قدرت روزنامہ)سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے نے عمرہ زائرین اور پاکستان سے جانے والے کارکنوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی قوانین اور ویزا سے متعلق تمام شرائط کی سختی سے پابندی کریں۔ زائرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام ہرگز نہ بڑھائیں اور مقررہ وقت پر سعودی عرب سے روانہ ہوں۔
سفارتخانے نے مقدس مقامات کے اطراف بھیک مانگنے یا غیر مجاز خدمات فراہم کرنے سے بھی گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔ ان سرگرمیوں میں وہیل چیئر کی مدد، بال کاٹنا، رقم کا تبادلہ اور خیرات یا عطیات تقسیم کرنا شامل ہیں جن کی اجازت نہ ہو تو ان سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں گرفتار کیے جانے حراست میں لیے جانے اور ملک بدر کیے جانے کے علاوہ سعودی عرب میں دوبارہ داخلے پر پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
سفارتخانے نے پاکستانی زائرین اور کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقدس مقامات کے تقدس کا خیال رکھیں، مقامی قوانین کا احترام کریں اور سعودی عرب میں قیام کے دوران ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں۔
