کوئٹہ میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے: پشتونخواملی عوامی پارٹی
واسا اور پی ایچ ای کے ٹیوب ویلز کی بندش سے پینے کے صاف پانی کا سنگین بحران پیدا ہوچکا ہے

کیسکو کی غفلت، ناقص انتظامی کارکردگی اور نااہلی اب مزید قابلِ برداشت نہیں: ضلعی پریس ریلیز
غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری ختم اور واضح شیڈول جاری کیا جائے، ورنہ عوام بھرپور احتجاج کا حق رکھتے ہیں: پشتونخواملی عوامی پارٹی کوئٹہ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ شدید گرمی میں گھنٹوں بجلی کی بندش سے بچے، بزرگ، مریض، طلبہ اور کاروباری طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ بجلی کی آنکھ مچولی نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث پینے کے صاف پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے، واسا، پی ایچ ای کے ٹیوب ویلز کی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے باعث بندش نے پانی کا بحران پیدا کردیا ہے۔ کوئٹہ کے کچلاغ، ہنہ اوڑک، نواں کلی،کلی ناصران، سرہ غوڑگئی، ترین شار، زرغون آباد، کوتوال، کلی عمر خان، چشمہ، عالمو، کلی برات، کلی شابو، دیبہ، ہدہ، ترخہ، پشتون باغ، خروٹ آباد، سبزل روڈ، سرپل، سپنی روڈ، سمنگلی، نوحصار، غبرگ، بلیلی، سریاب، موسی کالونی، خلجی کالونی، ہزار گنجی، تختانی بائی پاس، بھوسہ منڈی،سیٹلائٹ ٹان، محمود آباد، پشتون آباد، شالدرہ، سرکی روڈ، جان محمد روڈ و نیو جان محمد روڈ فیڈرزسے منسلک علاقوں سخت ترین لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کیسکو کی غفلت، ناقص انتظامی کارکردگی اور نااہلی اب مزید قابلِ برداشت نہیں۔ عوام باقاعدگی سے بجلی کے بھاری بل ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں بنیادی سہولت سے محروم رکھنا انتہائی افسوسناک اور عوام دشمن رویہ ہے۔ کئی علاقوں میں بغیر کسی واضح شیڈول کے بجلی بند کر دی جاتی ہے، جبکہ معمولی خرابیوں کی بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث عوام کو گھنٹوں گھنٹوں تک مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کو مزید اذیت میں مبتلا رکھنے کے بجائے کیسکو اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اگر بجلی کی صورتحال فوری طور پر بہتر نہ کی گئی تو عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے بھرپور احتجاج اور آواز بلند کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کوئٹہ کے تمام متاثرہ علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے، بجلی کی فراہمی کا واضح اور باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے اور شکایات کے ازالے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔
