عدالتی فیصلے کے بعد حکومت کی نظرثانی پٹیشن اختیارات اپنے ہاتھ لینے کی کوشش ہے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) نیوز اینکر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد حکومت کی نظرثانی پٹیشن اختیارات اپنے ہاتھ لینے کی کوشش ہے۔ ایکس پر عاصمہ شیرازی کے ٹویٹ کے مطابق قیدی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اُس کے بنیادی حقوق نہیں ہوتے۔ کل کے فیصلے کے بعد حکومت کی نظر ثانی پٹیشن اختیارات اپنے ہاتھ لینے کی کوشش ہے کہ اسپتال اور وہاں قیام کے دورانئے کا فیصلہ حکومت خود کرے۔
اس ہلچل میں عمران خان کی صحت پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے۔ مزید ٹویٹ میں کہا کہ سیاست امکانات کا نام ہے اور پاکستان کی سیاسی شخصیات امکان کے دائروں کے مسافر۔ اب تحریک انصاف امکان کے راستے پر ہے۔ سیاسی دائرے کا سفر جاری ہے اور مسافر سب ایک سے ہیں۔
عمران خان کے تکلیف کے دن تین سال پر محیط تھے مگر ریلیف چند گھنٹوں میں مل گیا۔ یہ سب کسی احتجاج کا نتیجہ ہے نہ ہی کسی انقلاب کا بلکہ یہ اُن “مذاکرات” کا نتیجہ ہے جو بیک ڈور جاری رہتے ہیں۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے حکم کے خلاف چیف کمشنر اسلام آباد نے نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے۔ چیف کمشنر کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جیل رولز 1978 میں کسی قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کا واضح طریقہ کار موجود ہے، لیکن سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے میں ان جیل رولز کو نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان پرزن رولز 1978 کے رول 197 کے برعکس حکم دینا ریکارڈ پر موجود ایک نمایاں قانونی خامی ہے۔ آرٹیکل 10 اے منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے جبکہ اس مقدمے میں فریقین کو نوٹس جاری کیے بغیر حکم جاری کر دیا گیا۔ مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے سنجیدہ قانونی نکتے کو مؤخر کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر عبوری حکم جاری کر دیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ عبوری مرحلے پر حتمی نوعیت کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
