وزیراعظم کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت؛ پی ٹی آئی کا خیر مقدم
حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ہمیشہ ’پیشکش‘ تک ہی محدود رہی ہے: بیرسٹر گوہر

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم واقعی اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھائیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔
جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے اور وہ قومی اسمبلی کے فلور کے علاوہ کابینہ کے سامنے بھی متعدد بار اس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر اپوزیشن کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت دیتا ہوں۔ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں تاکہ پاکستان کی معیشت اور جمہوریت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار رہی ہے، اب دیکھنا ہے اپوزیشن بات چیت کے لیے کتنی جلدی تیار ہوتی ہے۔
"اپوزیشن کے ساتھ بامقصد بات چیت کے لیے حکومت تیار ہے۔ میں ایک بار پھر اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں، بیٹھ کر بات کریں اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں، تاکہ پاکستان کی معاشی ترقی اور جمہوریت کو مزید تقویت دی جا سکے۔ اب یہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کتنی جلدی ایک… pic.twitter.com/1YDSRcx8q3
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) August 20, 2026
وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی دعوت پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ہمیشہ ’پیشکش‘ تک ہی محدود رہی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اگر اس حوالے سے عملی قدم اٹھاتے ہیں تو یہ اچھی بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالا جا سکے۔
حکومت نے ایک دفعہ پھر سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے دی مذاکرات اگر ہوتے ہیں تو اچھی بات ہے دہشت گردی پر مل کر کام کریں گے بیرسٹر گوہر pic.twitter.com/ro9WDXFjfT
— Mahrosh Pervaiz (@MahroshPervaiz1) August 20, 2026
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بہتر سمت میں لے جانے کی ضرورت ہے، ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو، ملک دہشت گردی اور غیر یقینی صورت حال سے باہر آئے اور ہم مل کر پاکستان کے دفاع ، معیشت اور جمہوریت کو مضبوط کریں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو 48 گھنٹے میں الشفاء اسپتال منتقل کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے 18 اگست کو دوپہر تقریباً ایک بجے عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم 48 گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکا ہے۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے توہینِ عدالت کی درخواست تیار کر لی گئی ہے۔
عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری جمعرات کو وکالت نامے پر دستخط کرانے کے لیے اڈیالا جیل پہنچے۔ اس دوران انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت دو دن میں بانی کواسپتال منتقل کرنے کی پابند ہے، اگر آج رات تک عمران خان کو شفاء اسپتال منتقل نہیں کیا گیا تو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکریں گے۔
