سرانان میں پولیس اسٹیشن پر بم دھماکہ حکومتی دعووں اور انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے: جمعیت علما اسلام

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، محسن نقوی کے ایس ایچ او والے تھانے بھی محفوظ نہیں رہے: مولانا عبدالرحمن رفیق


حکمران دیرینہ مسائل کا پائیدار حل نکالنے کے بجائے معاملات کو بند گلی کی طرف دھکیل رہے ہیں: ضلعی قیادت کی سخت مذمت
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عبدالصمد حقیار نے سرانان میں دن دیہاڑے پولیس اسٹیشن کو بم دھماکے سے نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک صورت اختیار کرچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں محسن نقوی کے ایس ایچ او والے تھانے دن دیہاڑے بموں سے اڑائے جا رہے ہیں جو حکومتی دعوں، امن و امان کی صورتحال اور انتظامی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مراکز ہی محفوظ نہ رہیں تو عام شہری اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے کس سے امید وابستہ کریں؟ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے غیر سنجیدہ طرزِ عمل کے باعث بلوچستان کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ دیرینہ مسائل کے سیاسی اور عوامی سطح پر قابلِ عمل حل تلاش کرنے کے بجائے معاملات کو مسلسل بند گلی کی طرف دھکیلنا کسی صورت دانشمندانہ طرزِ حکمرانی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرانان میں پولیس اسٹیشن پر دن دیہاڑے بم حملہ امن و امان کے حوالے سے حکومتی دعوں کی نفی کرتا ہے۔ حکومت کو محض رسمی بیانات اور عارضی اقدامات کے بجائے امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert