عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد رکن منتخب

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد رکن منتخب ہوگئیں۔ انہوں نے اسرائیل نواز تنظیم امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے آئی پی اے سی) کی بھرپور مخالفت اور لاکھوں ڈالر کی انتخابی مہم کے باوجود اپنی حریف میلیسا ہرنانڈیز کو شکست دے کر یہ اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق 39 سالہ عائشہ وہاب نے کیلیفورنیا کے 14ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی خصوصی نشست کے لیے ہونے والے انتخاب میں اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والی 51 سالہ اسرائیل نواز امیدوار میلیسا ہرنانڈیز کو شکست دی۔

عائشہ وہاب نے یہ خصوصی انتخاب سابق ری پبلکن رکنِ کانگریس ایرک سوئل ویل کی خالی ہونے والی نشست پر جیتا ہے۔ ایرک سوئل ویل نے اپریل میں جنسی بدسلوکی اور ہراسانی کے الزامات پر اچانک کانگریس کی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

عائشہ وہاب نے الیکشن میں 53.1 فیصد ووٹ لے کر تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی جیت کو امریکی سیاست میں پیسے کے مقابلے میں عوامی طاقت کی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ اب سوئل ویل کی کانگریس میں باقی ماندہ مدت تک رکنِ کانگریس رہیں گی، یہ مدت جنوری میں ختم ہوگی۔

عائشہ وہاب ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ترقی پسند سیاست دان ہیں۔ ان کے والدین 1980ء کی دہائی میں سوویت افغان جنگ کے دوران افغانستان سے ہجرت کر کے بطور پناہ گزین امریکا آئے تھے۔

وہ پہلی بار 2018ء میں ہیورڈ سٹی کونسل کی رکن منتخب ہونے کے بعد امریکا میں کسی بھی عوامی عہدے پر منتخب ہونے والی پہلی افغان نژاد امریکی خاتون بنی تھیں۔ 2022 میں وہ کیلیفورنیا کی ریاستی سینیٹر منتخب ہوئیں تو ایوان کی پہلی مسلم اور پہلی افغان نژاد رکن بن گئیں۔

عائشہ وہاب کی کامیاب کو لیے بھی اہمیت دی جارہی ہے کیوں کہ حال ہی میں مشی گن میں ڈیموکریٹ کے مسلمان امیدوار عبدالسید نے بھی پارٹی کی سینیٹ پرائمری جیتی تھی۔ اسرائیل نواز لابی نے انہیں شکست دینے کی کوشش میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر خرچ کیے تھےتاہم تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود عبدالسید نے الیکشن میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی انتخابات میں سپر پی اے سی (سُپر پولیٹیکل ایکشن کمیٹی) ایسا آزاد سیاسی گروپ ہوتا ہے جو کسی بھی امیدوار کی حمایت یا مخالفت میں لامحدود فنڈز جمع اور خرچ کر سکتا ہے۔ عام سیاسی کمیٹیوں کے برعکس، سپر پی اے سی پر رقم جمع کرنے کی کوئی قانونی حد نہیں ہوتی لیکن یہ براہ راست امیدوار کی مہم یا پارٹی کے ساتھ مل کر کام نہیں کر سکتے، بلکہ الگ رہ کر آزادانہ طور پر ٹی وی اشتہارات اور مہم چلاتے ہیں۔

عائشہ وہاب کی کامیابی کو بھی ڈیموکریٹ پارٹی میں اسرائیل نواز لابی کے سیاسی اثر و رسوخ میں کمی کی ایک اور علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے آئی پی اے سی) سے وابستہ ’سپر پی اے سیز‘ نے عائشہ وہاب کے خلاف اشتہارات اور سوشل میڈیا مہم پر لاکھوں ڈالرز خرچ کیے اور ان کی حریف کی بھرپور حمایت کی۔

عائشہ وہاب ڈیموکریٹ پارٹی کے ترقی پسند دھڑے سے تعلق رکھتی ہیں جو اسرائیل کو فوجی امداد دینے کی مخالفت سمیت غزہ میں جنگ بندی کی حامی اور صحت و تعلیم کے نظام میں تبدیلیوں کی حمایت کرتا ہے۔

اپریل میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے فلسطینی عوام پر مظالم کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ دوسری جانب ان کی حریف میلیسا ہرنانڈیز نے اسی سوال کے جواب میں اسرائیلی مظالم کو حقِ دفاع قرار دیا تھا۔

انتخابی مہم کے دوران عائشہ وہاب کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس میں پہنچنے کے بعد وہ ’بے مقصد جنگوں‘ کے خاتمے کے لیے کام کریں گی۔ دوسری جانب میلیسا ہرنانڈیز نے واشنگٹن میں ’مالیاتی نظم و ضبط‘ لانے اور چھوٹے کاروباروں کو ترجیح دینے پر زور دیا تھا۔

عائشہ وہاب اب ایرک سوئل ویل کی جگہ جنوری تک کانگریس میں خدمات انجام دیں گی تاہم ان کا میلیسا ہرنانڈیز کے ساتھ نومبر میں دو سالہ مدت کے لیے ایک بار پھر مقابلہ متوقع ہے۔

WhatsApp
Get Alert