وفاق کی پالیسیوں کے باعث بلوچستان قبرستان بن چکا، صوبے کو کالونی سمجھا جا رہا ہے: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ
بلوچستان اسمبلی بے بس ہے، یہاں منتخب نمائندوں سے زیادہ ایک صوبیدار کی چلتی ہے: امیر جماعت اسلامی بلوچستان

گوادر کے عوام وفاق کے زیرِ انتظام نہیں رہنا چاہتے، اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے: پسنی پریس کلب میں پریس کانفرنس
پسنی (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ اسلام آباد ہے، وفاق اور اسلام آباد کی پالیسیوں کے باعث آج بلوچستان قبرستان بن چکا ہے، بلوچستان کو صوبہ نہیں بلکہ کالونی سمجھا جا رہا ہے۔پسنی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی مکمل طور پر بے بس ہے، یہاں منتخب نمائندوں سے زیادہ ایک صوبیدار کی چلتی ہے۔ بلوچستان میں جمہوری آزادی نام کی کوئی چیز نہیں، پارلیمنٹ اور منتخب نمائندے بے اختیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں انہوں نے صرف ضلع گوادر ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی ترجمانی کی ہے۔ جہاں کہیں ظلم یا زیادتی ہوئی، انہوں نے اسمبلی کے فلور پر اس کے خلاف آواز بلند کی، جس کے باعث اسپیکر انہیں متعدد بار اسمبلی فلور سے باہر نکالتے رہے۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ وہ بلوچستان کے واحد منتخب رکن صوبائی اسمبلی ہیں جن کی رکنیت معطل کی گئی، جبکہ ان کے خلاف اب تک تین مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہیں، تاہم وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پہلے بھی اپنے عوام کے ساتھ کھڑے تھے اور آئندہ بھی ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر میں ماضی میں جاری کرپشن اور اقربا پروری کو ایک حد تک ختم کیا گیا ہے، جبکہ گوادر کے ماہی گیروں کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم اس راہ میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی بیوروکریسی نے ایک سال تک انہیں ضلع گوادر کا منتخب نمائندہ تسلیم نہیں کیا اور انہیں پورا ایک سال یہ منوانے میں لگا کہ وہ ضلع گوادر کے عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود گوادر کے عوام کی خدمت جاری رکھی اور آئندہ بھی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ گوادر کے ماہی گیروں کے تحفظ اور حقوق کے لیے پہلے بھی ان کے ساتھ تھے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جس وفاق کا نام لیا جاتا ہے، وہ صرف شہباز شریف اور آصف علی زرداری نہیں بلکہ وہی وفاق اور اسلام آباد ہے جو بلوچستان کو صوبہ نہیں بلکہ کالونی سمجھتا ہے۔ بلوچستان میں جو تباہی آئی ہے، اس کے ذمہ دار وفاق اور اسلام آباد کی یہی پالیسیاں ہیں۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ اب یہی ذہنیت گوادر پر بھی مسلط کرنے اور اسے اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن گوادر کے عوام کسی بھی صورت وفاق کے زیرِ انتظام رہنا نہیں چاہتے۔ ہم بلوچستان کی صوبائی اکائی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
