سرانان میں مزدوروں کا قتل قابلِ مذمت، ریاست کی بی ایل اے سمیت نام نہاد غیر ریاستی عناصر اور پراکسیز کے ذریعے پیدا کردہ صورتحال سویلین اتھارٹی کے خاتمے کی کوشش ہے : پشتونخوامیپ

تھانوں کو خالی کر کے ایف سی کو اختیارات منتقل کرنا عوام دشمنی ہے، واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ملزمان اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پشتونخوامیپ) کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں ضلع پشین کی تحصیل سرانان میں چند روز قبل سرانان بازار تھانے کو دھماکے سے اڑائے جانے اور سرانان بائی پاس کی زیرِ تعمیر سڑک پر کام کرنے والے پانچ مزدوروں کو بی ایل اے کے نام سے قتل کیے جانے کے واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں شہید مزدوروں کے خاندانوں سے دلی تعزیت اور گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک اس وقت سیاسی، آئینی، معاشی اور امن و امان کے سنگین بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ آئین، میڈیا، عدلیہ اور پارلیمنٹ کی آزادی و وقعت کو پامال کیا جا رہا ہے اور وفاقی و صوبائی اختیارات کو کمزور کرکے اقتدار اور وسائل کو مرکزیت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ امن و امان اور قومی سلامتی کی آڑ میں عوام کی سیاسی، شہری و آئینی آزادیوں، حقوق، وسائل اور حقِ حکمرانی کو غصب کرنے کی سازش کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔
پشتونخوامیپ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بی ایل اے سمیت نام نہاد غیر ریاستی عناصر اور پراکسیز کے ذریعے، یا ان کی آڑ میں، امن و امان کی ایسی صورتحال پیدا کر رہی ہے جسے عوام کے آئینی و جمہوری اختیارات محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پارٹی واضح کرتی ہے کہ بی ایل اے اور دیگر مسلح عناصر کی پشتونخوا وطن میں کارروائیاں اور بے گناہ شہریوں و مزدوروں کا قتل قابلِ مذمت ہے، لیکن دہشت گردی کے ان واقعات کو عوام کے حقوق سلب کرنے یا سویلین اتھارٹی ختم کرنے کا جواز بھی نہیں بنایا جا سکتا۔
بیان میں صوبائی محکمہ داخلہ اور حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تھانوں کو خالی کرکے پولیس اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ کوارٹرز میں جمع کرنا، سرکاری پراکسیز کے لیے میدان خالی کرنا اور انہیں شہروں تک محفوظ راستہ دینا کھلی عوام دشمنی اور سویلین اتھارٹی کے خاتمے کی کوشش ہے۔ عوام کی حمایت و اعتماد سے محروم ایف سی کو اختیارات منتقل کرنے اور پولیس و سول انتظامیہ کو غیر مؤثر بنانے کی سازش کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
پارٹی نے کہا کہ سرانان میں پہلے تھانہ اڑایا جانا اور چند روز بعد پانچ مزدوروں کا قتل صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ پشین کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بی ایل اے کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ پشتونخوامیپ نے مطالبہ کیا کہ دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات کرکے ملزمان اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے اور غفلت یا سہولت کاری کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔
بیان کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی دہشت گردی، ریاستی پراکسی سیاست اور بدامنی کی آڑ میں عوام کے آئینی، سیاسی و شہری حقوق، صوبائی اختیارات، قومی وسائل اور حقِ حکمرانی غصب کرنے کی ہر کوشش کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ علاوہ ازیں، شہید مزدوروں کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔

WhatsApp
Get Alert