’اگر شفاء ہسپتال منتقل کردیا جاتا ہے تو تب بھی عمران خان لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اینکرپرسن اور تجزیہ کار اسد اللہ خان نے ملکی کی موجودہ سیاسی صورتحال پر زبردست اور کاٹ دار تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس وقت چاروں طرف سے سیاسی اور اخلاقی بند گلی میں پھنس چکی ہے، جہاں سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ اس حوالے سے اپنے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو علاج معالجے کے لیے شفاء ہسپتال شفٹ کر بھی دیا جاتا ہے، تب بھی وہ اپنے مطالبات اور لانگ مارچ کی کال سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے، لانگ مارچ ہر صورت نکلے گا اور یہی نقطہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

اینکرپرسن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت عمران خان کو ہسپتال منتقل کرتی ہے اور وہاں سے بھی وہ لانگ مارچ کی تاکید جاری رکھتے ہیں تو اس سے عوام اور عالمی برادری میں یہ زبردست تاثر قائم ہوگا کہ وہ کسی قسم کی ڈیل نہیں لینا چاہتے بلکہ اپنے اصولوں پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں، حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ عمران خان کو ایک ایسے نڈر رہنما کے طور پر پیش کیا جائے جو ہسپتال کے بستر پر ہونے کے باوجود حکومت کے خلاف مزاحمت کا علم بلند کیے ہوئے ہے، یہ صورت حال موجودہ حکومتی اتحادیوں کے لیے انتہائی نازک اور نقصان دہ ثابت ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب اگر حکومت دباؤ میں آ کر عمران خان کو علاج کی سہولت نہیں دیتی یا ہسپتال منتقل کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتی ہے تو اس کا نقصان بھی حکومت ہی کو اٹھانا پڑے گا، اس وقت عالمی میڈیا، حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں اور غیر ملکی ایوانوں سے عمران خان کی صحت اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے جو آوازیں اٹھ رہی ہیں، ان کی شدت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
تجزیہ کار نے مزید اشارہ دیا کہ اس تمام تر کشمکش کے دوران 16 ستمبر کو ہونے والی عدالت کی اہم سماعت انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے، اس سماعت سے لازمی طور پر کوئی نہ کوئی ایسا سیاسی یا قانونی نتیجہ برآمد ہوگا جو حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، حکومت چاہے جو بھی آپشن اختیار کرے، حالات کا دھارا بتا رہا ہے کہ وہ اس وقت مکمل طور پر پھنس چکی ہے۔

WhatsApp
Get Alert