امریکی فوج کی مدد کرنے والی درجنوں افغان فیملیز افریقہ ڈی پورٹ

امریکہ (قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے درجنوں افراد کو وسطی افریقی جمہوریہ ڈی پورٹ کردیا، جن میں ایک ایسا افغان نوجوان بھی شامل ہے جس کے خاندان کے افراد ماضی میں امریکی فوج کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ 20 سالہ افغان نوجوان کو اس خدشے کے باعث افغانستان واپس بھیجنے سے عدالتی تحفظ حاصل تھا کہ طالبان سے اسے یا اس کے خاندان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، تاہم اس کے باوجود اسے وسطی افریقی جمہوریہ منتقل کردیا گیا۔
نوجوان کی وکیل الما ڈیوڈ نے بتایا کہ امریکی عدالت نے اس شخص کو افغانستان ڈی پورٹ کیے جانے سے تحفظ فراہم کیا تھا کیونکہ اسے طالبان کی جانب سے ممکنہ انتقامی کارروائی اور ظلم و ستم کا خدشہ تھا۔
امریکی تنظیم افغان ایواک، جو افغانستان میں امریکی اتحادیوں کی مدد کرتی ہے، کے علاوہ امریکن سول لبرٹیز یونین اور ہیومن رائٹس فرسٹ نے بھی افغان نوجوان کی وسطی افریقی جمہوریہ منتقلی کی تصدیق کی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق افغانستان میں اس نوجوان کے خاندان کو طالبان کی جانب سے دھمکیاں دی گئی تھیں۔ خاندان کو مبینہ طور پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ نوجوان کے بھائی امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرتے رہے تھے۔
وکیل الما ڈیوڈ کے مطابق نوجوان کا ایک بھائی امریکا میں مقیم ہے اور افغان نیشنل آرمی میں خدمات انجام دے چکا ہے۔ افغان نیشنل آرمی نے 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے پہلے امریکی فوج کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔
الما ڈیوڈ نے مزید بتایا کہ نوجوان کا ایک اور بھائی امریکی تربیت یافتہ پائلٹ تھا، جسے بعد میں طالبان نے قتل کردیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق افغان نوجوان کی شناخت صرف ’خلیل‘ کے نام سے کی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق خلیل کی بہن اور والد بھی امریکی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس فرسٹ کی ڈائریکٹر سیوی آروی کے مطابق امریکا سے آنے والی ڈی پورٹیشن پرواز ہفتے کے روز وسطی افریقی جمہوریہ کے دارالحکومت بانگوئی پہنچی۔ پرواز میں 12 افغان اور 8 ایرانی شہریوں کے علاوہ نیپال اور نکاراگوا سے تعلق رکھنے والے کئی افراد بھی موجود تھے۔ امریکی اخبار نے کُل 20 افغان شہریوں کو افریقہ منتقل کرنے کے اعداد ع شمار جاری کیے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق یہ رواں برس امریکا سے وسطی افریقی جمہوریہ جانے والی تیسری ڈی پورٹیشن پرواز تھی۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکا کی امیگریشن پالیسی سخت کرنے کے دوران ایسے کئی معاہدے کیے ہیں جن کے تحت ہزاروں افراد کو ان ممالک میں بھیجا گیا جہاں ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکا کی اس پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر ایسے افراد کے حوالے سے جنہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
