سونے کو بڑا جھٹکا ، تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا

کراچی (قدرت روزنامہ)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی کے خدشات اور امریکا میں شرح سود بڑھنے کے امکانات نے سونے کی قیمت کو تین ہفتوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد کمی کے بعد 4,302.99 ڈالر فی اونس رہی، جو 7 اگست کے بعد سونے کی کم ترین قیمت ہے۔ سونے کی قیمت میں مسلسل چوتھے کاروباری سیشن بھی کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت 200 روزہ موونگ ایوریج سے بھی نیچے رہی، جسے مارکیٹ میں ایک اہم تکنیکی سطح تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچرز برائے دسمبر کی قیمت بھی 1.1 فیصد کمی کے بعد 4,349.90 ڈالر فی اونس ہوگئی۔
ڈالر مستحکم، سونے پر مزید دباؤ
امریکی ڈالر کی قدر بدھ کو نسبتاً مستحکم رہی، جس کے باعث ڈالر میں قیمت رکھنے والی قیمتی دھاتیں دیگر کرنسیوں میں خریداری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً مہنگی ہوگئیں۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت پر ایک طرف مضبوط ڈالر کا دباؤ ہے جبکہ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تیل مہنگا، شرح سود بڑھنے کا خدشہ
امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کے دوران ہونے والی اہم ترین جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک مرتبہ پھر جنگی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ہوا، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع یعنی بانڈ ییلڈز بھی بڑھ گئیں۔
ڈی ایچ ایف کیپیٹل کے چیف ایگزیکٹو اور اثاثہ منیجر باس کوئجمن کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو بڑھایا ہے۔
ان کے مطابق مہنگا خام تیل مالیاتی پالیسی سے متعلق توقعات کو مزید سخت کرسکتا ہے اور بانڈ ییلڈز میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے سونے کی قیمت میں فوری بحالی کے امکانات محدود رہ سکتے ہیں۔
شرح سود سونے کیلئے کیوں اہم ہے؟
سونے کو عام طور پر مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم شرح سود میں اضافہ سونے کی کشش کم کردیتا ہے۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سونا کوئی باقاعدہ منافع یا سود فراہم نہیں کرتا، جبکہ شرح سود بڑھنے سے بانڈز اور دیگر سودی اثاثوں پر سرمایہ کاری زیادہ پرکشش ہوجاتی ہے۔ اس صورتحال میں سرمایہ کار سونے سے سرمایہ نکال کر زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کا رخ کرسکتے ہیں۔
امریکی فیڈ کے آئندہ فیصلے پر نظریں
مارکیٹ میں اس وقت امریکی فیڈرل ریزرو کے رواں ماہ ہونے والے اجلاس میں شرح سود بڑھائے جانے کے امکانات 68 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کے گورنر مائیکل بار نے بھی کہا ہے کہ اگر مہنگائی تیزی سے کم نہ ہوئی تو مرکزی بینک کے لیے شرح سود بڑھانے کا وقت آسکتا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے فیڈ کے چیئرمین کیون وارش نے بھی اس امکان کی جانب اشارہ کیا تھا کہ مرکزی بینک کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
دیگر قیمتی دھاتیں بھی دباؤ کا شکار
سونے کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسپاٹ سلور کی قیمت 0.9 فیصد کمی کے بعد 63.68 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ پلاٹینم 0.9 فیصد کمی کے بعد 1,725.03 ڈالر فی اونس پر آگیا۔
اسی طرح پیلیڈیم کی قیمت میں بھی 1.3 فیصد کمی ہوئی اور یہ 1,293.86 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگیا۔
پاکستان میں سونے کی قیمت پر کیا اثر پڑے گا؟
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی پاکستان کی مقامی مارکیٹ کے لیے بھی اہم ہے، تاہم مقامی سونے کی قیمت صرف عالمی نرخ سے طے نہیں ہوتی۔ روپے کی قدر، عالمی سونے کی قیمت اور مقامی مارکیٹ کے حالات بھی فی تولہ قیمت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
اگر عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں کمی برقرار رہتی ہے اور روپے کی قدر میں بڑی تبدیلی نہیں آتی تو پاکستان میں بھی سونے کی قیمت پر کمی کا دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں مزید اضافہ سرمایہ کاروں کو دوبارہ محفوظ اثاثوں کی جانب لے جاسکتا ہے، جس سے سونے کی قیمت میں دوبارہ تیزی آنے کا امکان بھی موجود رہے گا۔
اس لیے عالمی سرمایہ کار اس وقت امریکا ایران کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں، امریکی افراطِ زر اور فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق فیصلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل آنے والے دنوں میں سونے کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہی

WhatsApp
Get Alert