بلوچستان میں فری لانس صحافی مسائل کا شکار، نہ مستقل تنخواہ، نہ انشورنس، نہ قانونی تحفظ

رپورٹ: ضیاء آغا
چمن: بلوچستان کے حساس اور دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے فری لانس صحافیوں کو روزگار سے کہیں بڑھ کر بقا کی جنگ لڑنی پڑ رہی ہیں۔
ان صحافیوں کو مستقل تنخواہ، طبی انشورنس اور کوئی قانونی سہارے کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
خبر کور کرتے ہوئے زخمی ہو جانا یا مہینوں تک ادائیگی کا انتظار کرنا ان کے لیے معمول بن چکا ہے۔
“ایک مہینہ کام نہ کر سکوں تو گھر کیسے چلے گا؟”
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے فری لانس صحافی عطاء کاکڑ گوادر سے تربت، زیارت اور چمن تک بلوچستان کے تقریباً ہر حساس علاقے سے رپورٹنگ کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق پشتون بیلٹ میں حالیہ سکیورٹی خدشات نے چمن کا سفر خود ایک خطرہ بنا دیا ہے، اور افیون کی کاشت و عسکریت پسندی سے جڑی کئی اہم اسٹوریز صرف سکیورٹی خدشات کے باعث ڈراپ کرنا پڑتی ہیں۔
اپنے خاندان کے واحد کفیل عطاء کاکڑ کے مطابق سب سے بڑا خطرہ غیر یقینی آمدن ہے: “اگر خدا نخواستہ میرے ساتھ کوئی حادثہ ہو جائے، میں زخمی ہو جاؤں یا ایک مہینے کام نہ کر سکوں، تو میرے خاندان کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ میرے پاس نہ مستقل تنخواہ ہے، نہ انشورنس اور نہ کوئی مالی بیک اپ۔”
ان کے مطابق ادارے اکثر پیمنٹ میں تین سے چار ماہ تاخیر کرتے ہیں، ٹیکس کٹوتی میں شفافیت نہیں ہوتی، اور مستقل ادارے کا کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے فیلڈ میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ فارن میڈیا کے لیے فکسر یا کنٹریبیوٹر کے طور پر کام کرنے کے لیے نئی این او سی شرط نے کام مزید محدود کر دیا ہے، جس کے باعث کئی صحافی حساس موضوعات چھوڑ کر نسبتاً محفوظ عنوانات کی طرف رخ کر رہے ہیں۔
“صرف انہی کو اجازت جو اداروں کے گڈ بک میں ہوں” عزیز سباون
بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ کام کر چکے عزیز سباون کے مطابق پاک افغان بارڈر سے متعلق کسی آزاد ادارے کے لیے سٹوری کرنا سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
“صرف ان جرنلسٹس کو اجازت ہوتی ہے جو اداروں کے گڈ بک میں ہوں اور وہ انہی کے ایجنڈے کے مطابق سٹوریز کور کرتے ہیں۔” باقی صحافیوں کو چھپ کر اور دباؤ میں کام کرنا پڑتا ہے۔
وہ فری لانس صحافت کو “دیہاڑی والا کام” قرار دیتے ہیں جس دن کمائی ہو اسی دن گزارا ہو، اور اضافی خرچہ قرض ہی سے پورا ہوتا ہے۔ چونکہ ادارے ہر اسٹوری کا معاوضہ یکساں دیتے ہیں چاہے کوئٹہ سے کی جائے یا نو سو کلومیٹر دور گوادر سے، اس لیے کئی اہم کہانیاں کور ہی نہیں ہو پاتیں۔ قانونی و ادارہ جاتی عدم تحفظ کی مثال میں وہ سوراب اور مستونگ کے دو حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔
سوراب میں فضائی بمباری سے ستائیس افراد کی ہلاکت پر سرکاری اور مقامی بیانات میں تضاد تھا، جبکہ مستونگ میں پانچ مزدوروں کی موت کو مقامی افراد ڈرون حملہ اور انتظامیہ آئی ای ڈی دھماکہ قرار دیتی ہے۔ ان کے بقول ایسی حساس سٹوریز بغیر مداخلت کور کرنا مشکل ہے۔ ادائیگی میں تاخیر کی مثال میں وہ بتاتے ہیں کہ ماحولیاتی صحافت میں معروف ایک لاہوری نیوز ویب سائٹ نے ان کا بارہ ہزار روپے کا چیک اٹھائیس ماہ سے روک رکھا ہے۔
“قانون موجود ہے، مگر نفاذ کمزور ہے” فریڈم نیٹ ورک
فریڈم نیٹ ورک کے رکن حمیداللہ کے مطابق فری لانس صحافیوں کو سکیورٹی خطرات، مالی عدم تحفظ اور ادارہ جاتی سپورٹ کی کمی کا سب سے زیادہ سامنا ہے، جبکہ مستقل آمدن، انشورنس، طبی سہولت اور سیفٹی ٹریننگ جیسی بنیادی سہولیات بھی عموماً میسر نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کا قانونی فریم ورک موجود ہے، اور “Protection of Journalists and Media Professionals Act 2021” میں فری لانس صحافی بھی شامل ہیں، مگر عملی نفاذ کمزور ہے۔ خاص طور پر ہیلتھ و لائف انشورنس اور فوری طبی امداد کے حوالے سے بڑا خلا موجود ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کے ڈیٹا کے مطابق صحافیوں کے خلاف خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے اور بلوچستان کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے: “فری لانس صحافی خطرناک حالات میں رپورٹنگ تو کرتا ہے، لیکن خطرے کی صورت میں اس کے پیچھے کوئی مضبوط ادارہ جاتی تحفظ موجود نہیں ہوتا۔”
“سروس سٹرکچر ہی موجود نہیں” بلوچستان یونین آف جرنلسٹس۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد کے مطابق فری لانس صحافیوں کے مسائل دراصل پورے شعبے میں سروس سٹرکچر کے فقدان کا تسلسل ہیں، کیونکہ پاکستان میں فری لانس جرنلسٹ کی کوئی واضح قانونی تعریف موجود نہیں۔
یونین نے “جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ” قائم کر رکھا ہے، جس کے تحت صحافت پر انحصار کرنے والے صحافیوں کو زخمی یا شہید ہونے کی صورت میں مالی مدد ملتی ہے، اور یہ سہولت اب پورے بلوچستان تک وسیع کر دی گئی ہے۔ یونین ‘جرنلسٹ پروٹیکشن بل’ پر بھی کام کر رہی ہے، جسے جلد بلوچستان اسمبلی سے منظور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
منظور احمد کے بقول حکومت کو قانون سازی کے ذریعے سکیورٹی، انشورنس اور طبی سہولیات کو یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ مستقبل میں صحافت کا بڑا حصہ فری لانس ماڈل پر ہی منتقل ہوتا نظر آ رہا ہے۔
بلوچستان جیسے کنفلکٹ زون میں فری لانس صحافت ایک دوہرے چیلنج کا نام بن چکی ہے رپورٹنگ کے دوران جان کا خطرہ، اور مالی و قانونی تحفظ کا مکمل فقدان۔ جب تک حکومت اور میڈیا ادارے واضح سروس سٹرکچر اور قانونی فریم ورک تشکیل نہیں دیتے، یہ غیر یقینی صورتحال جاری رہے گی۔
