ہماری سیاست کا محور پشتون ملت سمیت تمام مظلوم عوام کی آزادی، برابری اور خوشحالی ہے: خوشحال خان کاکڑ
2024 کے انتخابات بدترین دھاندلی اور رشوت خوری کا نتیجہ تھے، ہماری کامیابی کو شعوری طور پر ناکامی میں بدلا گیا: چیئرمین پشتونخوانیپ

پارلیمان ہماری منزل نہیں، یہ مظلوم عوام کی آواز پہنچانے کا ذریعہ ہے: خروٹ آباد میں شمولیتی جلسے سے خطاب
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ ہماری سیاست اور جدوجہد کا محور پشتون ملت سمیت محکوم اقوام اور مظلوم عوام کی آزادی، سیالی، برابری اور ترقی و خوشحالی کی منزل مقصود تک پہنچانے کی مرہون منت ہے پشتونخوانیپ ملک کے اندر حالات اور افغانستان سمیت ہر مسئلے پر واضح مؤقف اپنائے ہوئے ہیں اور پارٹی کا یہ مؤقف ہر وقت برحق ثابت ہوا ہے وہ افغانیہ خروٹ آباد علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام شمولیتی جلسے سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے سینئر سیکرٹری سید قادر آغا ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکرٹری صاحبہ بڑیچ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز نداسنگر،رحمت اللہ صابر، سابق کونسلر حاجی عبداللہ خروٹی اور ضلعی ڈپٹی سیکرٹری اکبر کلیوال نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر 17 گھرانوں کے 150 سے زائد بزرگ شخصیات، سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے شامل ہونے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بزرگ شخصیات اور نوجوانوں کی پارٹی میں شمولیت خوش آئند ہے اور انہوں نے جن اْمیدوں کے ساتھ پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے پارٹی اْن اْمیدوں کو ضرور پورا کریگی اور یہ خدا پاک کا فضل ہمارے اکابرین کی تاریخ ساز کردار، جدوجہد، قربانیوں اور اخلاص کا نتیجہ ہے کہ غیور عوام جوق در جوق پشتونخوانیپ میں شامل ہوکر ہماری پارٹی کو قومی نجات کا ذریعہ گردانتے ہیں اور پشتونخوانیپ پشتونخوا وطن کے ہر فرد اور گھرانے کی دوسری پارٹی ہے اور اْن سے مسلسل جدوجہد اور ہر مسئلے پر آواز اْٹھانے کی توقع رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوانیپ کی سیاست پشتون افغان ملت کو ہر شعبہ زندگی میں درپیش مشکلات سے نجات کیلئے سیاسی جمہوری مزاحمت اور جدوجہد ہے جبکہ پارلیمان ہمارا منزل مقصود نہیں بلکہ ہماری جدوجہد میں پارلیمانی نمائندگی ایک جز کی حیثیت رکھتی ہے جس کے ذریعے محکوم اقوام اور مظلوم عوام کی آواز پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے انتخابات بدترین دھاندلی، زور و زبردستی اور بدترین رشوت خوری کا نتیجہ تھے پشتونخوا نیپ نے اْس انتخابات میں تین قومی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن ہماری کامیابی کو شعوری منصوبہ بندی کے تحت ناکامی میں تبدیل کیا گیا اور ایک سیٹ پر ہمیں باربار یہ آفر کی گئی کے آپکو قومی اسمبلی کی سیٹ دی جائیگی لیکن ہماری شرائط کو ماننا پڑے گا لیکن خدا کا فضل ہے کہ پشتونخوانیپ کی قیادت اور کارکن آخر کار اپنی جدوجہد میں سرخرو ہوئے اور اب قومی اسمبلی میں ہر ظلم وجبر پشتون ملت، محکوم اقوام اور مظلوم عوام کے حقوق و اختیارات اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے بھرپور آواز بلند کرسکتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ افغانیہ خروٹ آباد علاقہ بڑی آبادی پر مشتمل ہے اور یہاں پارٹی کو مزید وسیع اور فعال بنانے کیلئے امکانات موجود ہے اور اس علاقے میں رہنے والے قبائلی عوام انتہائی جرات مند، وطن دوست اور کاروباری لوگ ہیں انہیں سیاست، سیاسی جدوجہد اور تعلیم کی طرف توجہ دینا ہوگا اور پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد میں فعال کردار ادا کریں اور پارٹی کے اگلے صفوں تک پہنچ کر قومی تحریک میں اپنے فعالیت دوبالا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون ملت کو درپیش سنگین صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی کو ہر سطح پر منظم، فعال اور وسیع بناتے ہوئے منظم تحریک کو ملت کی نجات کا باعث بنائے اور روزانہ کی بنیاد پر پارٹی عہدیدار اور کارکن محنت کے ساتھ اپنی جدوجہد مزید تیز کریں۔
