اہم بریک تھرو، بھارت کا پاکستان میں ہونے والی ’سیف گیمز‘ میں شرکت سے متعلق بڑا فیصلہ

لاہور(قدرت روزنامہ)بھارت نے 23 سال کے طویل سفارتی اور کِھیلوں کے وقفے کے بعد، پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے 14ویں ساؤتھ ایشین فیڈریشن (سیف) گیمز 2027 میں شرکت کے لیے اصولی طور پر حامی بھر لی ہے۔ 4 سے 11 اپریل تک شیڈول اس میگا ایونٹ میں بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک بھرپور حصہ لیں گے۔
پاکستان میں کھیلوں کے شائقین کے لیے ایک بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے کہ پڑوسی ملک بھارت نے 2027 میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والے ساؤتھ ایشین فیڈریشن (سیف) گیمز میں شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل خالد محمود کے مطابق ساؤتھ ایشین اولمپک ایسوسی ایشن کے حالیہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھارت کی نمائندگی موجود تھی۔
انہوں نے تصدیق کی کہ باضابطہ دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد بھارت نے کھیلوں کے اس ایونٹ میں شرکت پر اتفاق کیا ہے۔ متوقع طور پر بھارت جنوری 2027 تک پاکستان آنے والے اپنے ایتھلیٹس اور آفیشلز کے دستے کی مکمل تفصیلات فراہم کر دے گا۔
تاریخ، مقامات اور کھلاڑیوں کی بڑی تعداد
14ویں سیف گیمز آئندہ سال 4 اپریل سے 11 اپریل 2027 تک پاکستان میں منعقد ہوں گے۔ ان تاریخوں کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں ساؤتھ ایشین اولمپک کمیٹی کی مشاورت سے حتمی شکل دی گئی۔
یہ گیمز پاکستان کے 3 بڑے شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد کیے جائیں گے جن میں کل 28 مختلف کھیلوں کے مقابلے ہوں گے۔
ابتدائی تیاریوں کے مطابق اس ایونٹ میں 346 میڈلز کے ایونٹس رکھے گئے تھے اور تقریباً 3200 ایتھلیٹس کی شرکت متوقع تھی، تاہم حکومتی سطح پر ہونے والی تازہ ترین منصوبہ بندی کے مطابق اب 6000 سے زیادہ ایتھلیٹس اور آفیشلز کی آمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تیاریاں اور نائب وزیراعظم کی ہدایات
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے علاقائی اولمپک باڈیز کے ساتھ مل کر اس عظیم الشان ایونٹ کی تیاریاں باقاعدہ طور پر شروع کر دی ہیں۔
مزید پڑھیں:قدیم کھیلوں کے عالمی میلے میں سبز ہلالی پرچم لہرانے کی تیاری، پاکستانی دستہ بشکیک روانہ
اگست میں ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل کے ہونے والے اجلاس میں بھارت کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے نمائندوں نے بھی ورچوئل شرکت کی تھی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے وفاقی اور صوبائی حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ کھیلوں کے تمام مقامات کی تعمیر اور تزئین و آرائش کا کام بروقت مکمل کیا جائے۔
انہوں نے سیکیورٹی، رہائش، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری سہولیات کے فول پروف انتظامات یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
23 سال بعد پاکستان میں کھیلوں کی رونقیں
پاکستان نے آخری مرتبہ 2004 میں اسلام آباد میں ان علاقائی کھیلوں کی میزبانی کی تھی۔ اس کے بعد مختلف وجوہات، بالخصوص خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے باعث پاکستان میں کوئی اتنا بڑا کثیر الملکی ایونٹ منعقد نہیں ہو سکا۔
2027 کا یہ ایونٹ 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے کے بعد پاکستان کی بطور میزبان واپسی کی علامت ہے، جو ملک میں کھیلوں کے محفوظ اور سازگار ماحول کا عالمی سطح پر واضح پیغام دے گا۔
کھیلوں کے ذریعے سفارتی برف پگھلنے کی امید
واضح رہے کہ اگر اس پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک کھیلوں کی خبر نہیں بلکہ خطے کی جیو پولیٹکس میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار تسلیم، 10 سال بعد اسلام آباد، اوسلو تعلقات میں نئی پیش رفت، ناروے کی مزید تعاون کی پیشکش
برسوں سے پاک بھارت دو طرفہ تعلقات جمود کا شکار ہیں اور روایتی کھیلوں (جیسے کرکٹ) میں بھی بھارت کی جانب سے پاکستان کے سفر سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔
بھارت کا ’سیف گیمز 2027‘ کے لیے اصولی طور پر رضامند ہونا اس بات کا غماز ہے کہ کثیر الملکی (ملٹی لیٹرل) ایونٹس سفارتی برف پگھلانے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ ایونٹ نہ صرف خطے میں پاکستان کے مثبت اور پرامن تشخص کو ابھارے گا، بلکہ اس سے جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان عوامی سطح پر رابطوں اور معاشی سرگرمیوں کو بھی غیر معمولی فروغ ملے گا۔

WhatsApp
Get Alert