سانحہ مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن زیارت : تحقیقاتی کمیشن کی کھلی سماعت، پولیس کی 4 رکنی رابطہ ٹیم تشکیل
دہشت گرد عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، پولیس مکمل حکمت عملی کے ساتھ سرگرمِ عمل ہے: ڈی ایس پی زیارت

گواہان کے بیانات قلمبند، تحقیقاتی کمیشن کی مزید کارروائی 9 ستمبر تک ملتوی
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) 7 ستمبر 2026: تحقیقاتی کمیشن کے ایک اعلامیہ کے مطابق مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران محکمہ پولیس کی جانب سے شفیق الرحمن، اے آئی جی (لیگل)، سی پی او کوئٹہ تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور انسپکٹر جنرل آف پولیس، بلوچستان کی جانب سے مورخہ 1 ستمبر 2026 کو جاری کردہ آرڈر/حکم نامہ کمیشن کے سامنے پیش کیا۔ مذکورہ حکم نامہ تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے مورخہ 27 اگست 2026 کو جاری کردہ حکم کی تعمیل میں جاری کیا گیا تھا۔حکم نامے کے تحت محکمہ پولیس کی جانب سے ایک چار رکنی رابطہ ٹیم نامزد کی گئی ہے، جس میں (1) پرویز خان عمرانی، ڈی آئی جی پی سبی رینج، (2) شفیق الرحمن، اے آئی جی پی لیگل، سی پی او کوئٹہ، (3) سید فاضل بخاری، ایس ایس پی انویسٹی گیشن، سی ٹی ڈی بلوچستان، اور (4) عبد المالک درانی، ڈی ایس پی/ایس پی زیارت شامل ہیں۔ یہ رابطہ ٹیم محکمہ پولیس کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کی کارروائی کی مکمل پیروی کرے گی۔سماعت کے دوران ڈی ایس پی/ایس پی زیارت نے تحقیقاتی کمیشن کو آگاہ کیا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، جبکہ محکمہ پولیس دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے مکمل توانائی اور حکمت عملی کے ساتھ سرگرمِ عمل ہے۔دورانِ سماعت متعدد اندراج شدہ گواہان بھی تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور اپنے بیانات جمع کروائے۔تحقیقاتی کمیشن کی مزید کارروائی دو روز بعد، 9 ستمبر 2026 بروز بدھ، دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
