اپریل 2026 کے بعد بلوچستان بار کونسل کے جاری کردہ وکالت کے لائسنس قابلِ قبول نہیں:مذکورہ لائسنسوں کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تجربہ بھی شمار نہیں ہوگا ‘ بلوچستان ہائیکورٹ

نئے اندراج کے زیرِ التوا کیسز 15 روز کے اندر متعلقہ کمیٹیوں کے سامنے پیش کیے جائیں: چیف جسٹس کی سخت ہدایت


، جوڈیشل افسران اور ٹربیونلز کو مراسلہ جاری
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) 7 ستمبر: بلوچستان ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کی جانب سے آئینی درخواست نمبر 471/2026، بعنوان میر عطاء اللہ، ممبر بلوچستان بار کونسل اور بنام چیئرمین بلوچستان بار کونسل و دیگر میں 3 اگست 2026 کو جاری کیے گئے حکم کی روشنی میں اہم انتظامی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے جاری مراسلے میں متعلقہ سیشن ڈویژنز، ٹرائل کورٹس، خصوصی عدالتوں اور مرکزی و صوبائی ٹربیونلز کے جوڈیشل افسران اور پریزائیڈنگ افسران کو عدالتی حکم سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق اپریل 2026 کے بعد بلوچستان بار کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے وکالت کے لائسنسوں کو درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور ایسے لائسنسوں کی بنیاد پر کسی فرد کے پیشہ ورانہ تجربے کو بھی شمار نہیں کیا جائے گا۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے جاری انتظامی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ نچلی عدالتوں اور ہائیکورٹ میں پریکٹس سے متعلق ایسے تمام لائسنس، جو 2 اپریل2026 کے بعد جاری کیے گئے ہوں، کسی بھی مقصد کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ ایسے لائسنسوں کی بنیاد پر تجربہ سرٹیفکیٹ یا دیگر کسی دستاویز کو بھی قابلِ اعتبار نہیں سمجھا جائے گا۔ہائیکورٹ نے ہدایت کی ہے کہ مذکورہ عدالتی حکم اور انتظامی ہدایات کو تمام سیشن ڈویژنز، ٹرائل کورٹس، خصوصی عدالتوں، مرکزی و صوبائی ٹربیونلز سمیت متعلقہ عدالتی فورمز میں باقاعدہ طور پر سرکولیٹ کیا جائے، تاکہ تمام جوڈیشل افسران اس حکم سے آگاہ رہیں اور اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔عدالتی احکامات میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان بار کونسل کے سیکرٹری نئے اندراج (New Enrolment) کے تمام زیرِ التوا کیسز 15 روز کے اندر متعلقہ انرولمنٹ کمیٹیوں کے سامنے پیش کریں تاکہ قانون اور مقررہ اصولوں کے مطابق ان کیسز پر کارروائی کی جا سکے اور ایسے وکلاء، جن کے کیسز ابھی تک انرولمنٹ کمیٹیوں کے سامنے پیش نہیں ہوئے، انہیں مزید نقصان یا تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔بلوچستان ہائیکورٹ نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ عدالتی حکم اور انتظامی ہدایات کی سختی سے تعمیل کی جائے گی اور متعلقہ تمام عدالتی و انتظامی ادارے اس سلسلے میں ضروری اقدامات یقینی بنائیں گے۔

WhatsApp
Get Alert