لسبیلہ کی تاریخی حیثیت کا تعین موجودہ انتظامی حدود نہیں، موجودہ بلوچستان پوری تاریخ کے دوران ایک سیاسی وحدت نہیں رہا، مختلف علاقوں کی الگ تاریخی حیثیت رہی ہے جام کمال خان
لسبیلہ محض قلات کا ایک عام ضلع نہیں بلکہ اٹھارہویں صدی سے ایک الگ نوابی ریاست کے طور پر قائم رہا: جام کمال خان کا تفصیلی بیان

لسبیلہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)سابق وزیراعلی بلوچستان و وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ لسبیلہ کی تاریخی حیثیت کا تعین موجودہ انتظامی حدود یا موجودہ سیاسی نقشے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مستند تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لسبیلہ کی اپنی ایک منفرد تاریخی، سیاسی اور انتظامی شناخت رہی ہے جسے بلوچستان کی مجموعی تاریخ کے تناظر میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں جام کمال خان نے لسبیلہ کی تاریخ اور ماضی کی سیاسی و انتظامی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لسبیلہ اٹھارہویں صدی میں ایک الگ حکمران ریاست کے طور پر سامنے آیا اور قیام پاکستان کے بعد انتظامی انضمام تک جام خاندان کی حکمرانی میں رہا جام کمال خان نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ بلوچستان اپنی آج کی آئینی اور انتظامی شکل میں پوری تاریخ کے دوران ایک ہی سیاسی وحدت نہیں رہا۔ ان کے مطابق موجودہ صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کی اپنی الگ الگ تاریخی اور سیاسی حیثیت رہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے انتظامی ڈھانچے، سیاسی تعلقات اور حکمرانی کے نظام میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں انہوں نے کہا کہ خطے کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے خانیتِ قلات، ریاست لسبیلہ، مکران اور خاران کی نوابی ریاستوں سمیت ان علاقوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے جو مختلف ادوار میں اپنی الگ سیاسی و انتظامی حیثیت رکھتے تھے، جبکہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں برطانوی انتظامی نظام بھی مختلف صورتوں میں نافذ رہاجام کمال خان کے مطابق تاریخی حقائق کو موجودہ انتظامی نقشے کے ساتھ ملا کر دیکھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ موجودہ انتظامی حدود وقت کے ساتھ تشکیل پاتی اور تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی علاقے کی تاریخی شناخت اور سیاسی حیثیت جانچنے کے لیے اس دور کے مستند تاریخی ریکارڈ، معاہدوں، ریاستی دستاویزات اور دیگر شواہد کا مطالعہ ضروری ہے انہوں نے خاص طور پر ریاست لسبیلہ کی تاریخی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لسبیلہ نے مختلف ادوار میں اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔ ان کے مطابق لسبیلہ اور قلات کے درمیان سیاسی اور علاقائی تعلقات مختلف ادوار میں تبدیل ہوتے رہے، تاہم لسبیلہ کو قلات کے ایک عام ضلع کے طور پر دیکھنا اس کی تاریخی انتظامی حیثیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا جام کمال خان نے کہا کہ لسبیلہ نے قلات کے عام ضلع کے بجائے ایک علیحدہ نوابی ریاست کی حیثیت سے اپنا انتظامی تشخص برقرار رکھا۔ ان کے مطابق اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے خطے کی سیاسی تاریخ اور اس دور کے انتظامی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ لسبیلہ کی تاریخ محض موجودہ انتظامی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں صدیوں پر محیط سیاسی، سماجی اور انتظامی عوامل کارفرما رہے ہیں۔ ریاست لسبیلہ نے اپنے مخصوص حکومتی ڈھانچے اور مقامی حکمرانی کے باعث خطے میں ایک منفرد مقام حاصل کیا سابق وزیراعلی بلوچستان نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ تاریخ کو سیاسی یا موجودہ انتظامی ضرورتوں کے مطابق دیکھنے کے بجائے مستند تاریخی حوالوں اور شواہد کی بنیاد پر سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ماضی کی سیاسی وحدتوں اور ریاستوں کی حیثیت کا تعین ان کے اپنے دور کے حالات اور دستاویزی ریکارڈ کی روشنی میں کیا جانا چاہیے جام کمال خان نے مزید کہا کہ موجودہ بلوچستان کے مختلف حصوں کی تاریخی تشکیل ایک طویل اور پیچیدہ عمل کا نتیجہ ہے۔ مختلف علاقوں میں مختلف حکمران خاندان، ریاستی نظام اور انتظامی ڈھانچے موجود رہے، جن کے باہمی تعلقات بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے ان کے مطابق خانیتِ قلات نے خطے کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا، تاہم اس کے زیراثر یا اس سے متعلق مختلف علاقوں کی انتظامی اور سیاسی حیثیت یکساں نہیں تھی۔ اسی طرح مکران، خاران اور لسبیلہ جیسے علاقوں کی اپنی مخصوص تاریخی روایات اور حکمرانی کے نظام موجود رہے جام کمال خان کا کہنا تھا کہ لسبیلہ کی تاریخی حیثیت کو سمجھنے کے لیے اس کے قلات کے ساتھ تعلقات، جام حکمران خاندان کی تاریخ، برطانوی دور کے انتظامی معاملات اور قیام پاکستان کے بعد ہونے والی انتظامی تبدیلیوں کا جامع مطالعہ ضروری ہے انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد لسبیلہ کی انتظامی حیثیت میں تبدیلیاں آئیں اور بالآخر اسے موجودہ انتظامی نظام میں شامل کیا گیا، تاہم انتظامی انضمام سے اس خطے کی تاریخی شناخت ختم نہیں ہوجاتی۔ ان کے مطابق کسی علاقے کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ اس کی پوری تاریخی حیثیت کا متبادل نہیں ہوسکتا سابق وزیراعلی بلوچستان نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بلوچستان کی تاریخ کو وسیع تناظر میں پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خطے کی تاریخ صرف موجودہ صوبائی حدود سے شروع نہیں ہوتی بلکہ اس میں مختلف ریاستوں، قبائلی علاقوں، نوابی ریاستوں، حکمران خاندانوں اور برطانوی انتظامی دور کے اثرات شامل ہیں انہوں نے کہا کہ تاریخی معاملات پر گفتگو کرتے وقت جذبات یا سیاسی وابستگیوں کے بجائے مستند تاریخ، دستاویزی شواہد اور قابل اعتماد حوالوں کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق تاریخ کو درست تناظر میں پیش کرنے سے نہ صرف ماضی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ نئی نسل بھی اپنے علاقے کے تاریخی پس منظر سے بہتر طور پر آگاہ ہوسکتی ہے جام کمال خان کے بیان کے بعد لسبیلہ کی تاریخی حیثیت ایک مرتبہ پھر سیاسی اور سماجی حلقوں میں زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ لسبیلہ کو بلوچستان کے اہم تاریخی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کی تاریخ میں جام خاندان کی حکمرانی سمیت مختلف سیاسی ادوار نمایاں حیثیت رکھتے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ لسبیلہ کی تاریخ کو موجودہ انتظامی حدود تک محدود کرنا اس کے وسیع تاریخی پس منظر کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کے مطابق لسبیلہ کی شناخت اور تاریخی مقام کا تعین مستند تاریخ اور تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے جام کمال خان نے اپنے بیان میں اس بات کو دہرایا کہ موجودہ بلوچستان کی انتظامی اور آئینی ساخت ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں تشکیل پائی ہے، جبکہ ماضی میں اس خطے کے مختلف حصے الگ الگ سیاسی و انتظامی اکائیوں کی صورت میں موجود رہے۔ اسی لیے تاریخی حیثیت اور موجودہ انتظامی حیثیت کو ایک ہی پیمانے سے جانچنا مناسب نہیں انہوں نے کہا کہ لسبیلہ کی منفرد تاریخ، جام خاندان کی حکمرانی اور ریاستی حیثیت کو بلوچستان کی مجموعی تاریخ کا حصہ سمجھتے ہوئے اس پر مزید تحقیق اور دستاویزی کام کی ضرورت ہے تاکہ تاریخی حقائق آئندہ نسلوں تک درست انداز میں منتقل ہوسکیں جام کمال خان کے مطابق لسبیلہ کی تاریخی حیثیت موجودہ انتظامی حدود سے نہیں بلکہ مستند تاریخی حقائق سے طے ہونی چاہیے اور اس حوالے سے کسی بھی بحث یا نتیجے کے لیے تاریخی دستاویزات اور معتبر شواہد کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
