وقت آچکا ہے اب یہ عوام کو نہیں روک پائیں گے، عوام کی اکثریت عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ وقت آچکا ہے اب یہ عوام کو نہیں روک پائیں گے، عوام کی اکثریت عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، یہ لوگوں کو ڈرا رہے کہ 27 ستمبر کو باہر نہ نکلیں لیکن لوگوں کا ڈر ختم ہوگیا، اب عوام کا سمندر نہیں روک پائیں گے۔ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وقت آچکا ہے اب یہ عوام کو نہیں روک پائیں گے ، عمران خان سے ان کے خوف کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان عوام کے نمائندے ہیں عوام کی اکثریت اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
اس لیے یہ لوگوں کو اٹھا رہے ہیں تاکہ لوگ ڈرے رہیں، ستائیس ستمبر کو باہر نہ نکلیں لیکن اب لوگوں کا ڈر ختم ہوگیا ہے ۔ ان شاء اللہ یہ ستائیس ستمبر کو عوام کا سمندر نہیں روک پائیں گے۔
علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ لوگ اپنے حق کے لیے نکلیں اس غلامی کے خلاف اپنی آزادی کے لیے نکلیں عمران خان تو کھڑے ہیں اب لوگ اپنے حق کے لیے کھڑے ہونگے لوگوں کو سمجھ آرہی ہے کہ پاکستان میں کیا ہونے جارہا ہے۔
یہ جو چور ڈاکو مسلط ہیں جس دن لوگ اپنے حق کے لیے نکلے یہ پہلا جہاز پکڑ کر باہر جا چکے ہوں گے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم اٹھارہ ماہ سے اڈیالہ آرہے، عدالتی احکامات پر عمل نہیں ہورہا، کوئی ریلیف نہیں مل رہا، یہ مرضی کے مطابق ایک ملاقات کراکے پھر ملاقاتیں بند کر دیتے ہیں یہ حکومت کھلی توہین عدالت کررہی ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ میں نے جب پیش ہونا تھا گیارہ اریسٹ وارنٹ جاری کیے گئے، میرے اکاؤنٹ ، شناختی کارڈ بند کیے گئے اب جب پراسکیوٹر پیش نہیں ہو رہا تو کیا پراسکیوٹر قانون سے اوپر ہے؟ ہم نے چیلنج کیا ہے تو اب جج صاحب نے کل اس کو بلایا ہے، ہم پیش ہورہے تو پراسیکیوٹر کے خلاف اریسٹ وارنٹ کیوں جاری نہیں ہورہے۔
دوسری جانب قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی عمران خان جیسی طبی سہولیات فراہم کرنے کا معاملہ وفاقی آئینی عدالت پہنچ گیا۔اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے عمران خان کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردیا۔درخواست میں وفاقی آئینی عدالت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کا پابند بناتا ہے، اس لیے بانی پی ٹی آئی کو دستیاب طبی سہولیات انہیں بھی فراہم کی جائیں۔درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا حکم اب بھی نافذالعمل ہے جس میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کا علاج بھی شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے کرانے کا حکم دیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی طرز پر واٹس ایپ کے ذریعے بیرون ملک بات چیت کی سہولت بھی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert