’ری سیٹ منصوبے کی خاطر ’منجی تھلے ڈانگ‘ پھیری جارہی ہے‘


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) معروف صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ ترین کالم میں ملک میں نئے صوبوں کے قیام، سیاسی تناؤ اور موجودہ حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات پر گہرے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال انتہائی کشیدہ اور ’ڈانگ سوٹا‘ چلنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ سہیل وڑائچ نے صوبوں کی تشکیل کی موجودہ سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حالات تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں، اہل حکم یعنی طاقتور حلقوں کو کسی متوقع نقصان کی پروا نہیں، ان کے ایک پرستار نے یہاں تک کہہ دیا کہ نظام کی بہتری کے لیے سو پچاس جانوں کی قربانی کوئی بڑی بات نہیں، یوں معلوم ہوتا ہے کہ ’ڈانگ چک لئی گئی اے‘ یعنی لڑائی کی مکمل تیاری ہے اور اسی کے ذریعے سب کو سیدھا کرنے کا ارادہ ہے، دوسری طرف اپوزیشن اور معترضین یعنی اہل ظلم بھی ڈانگیں کھانے کو تیار بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 2024ء میں اپنے ہی کروائے گئے انتخابات کے تحت بنی اسمبلیوں کی بجائے ریفرنڈم کے ذریعے قانون سازی کا سوچنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان اسمبلیوں کو عوامی نمائندہ تسلیم ہی نہیں کیا جا رہا، اگر یہ اصول مان لیا جائے تو پھر ہر آئینی ترمیم سے پہلے ملک میں ریفرنڈم کروایا جانا چاہیے اور بعد میں اسے اسمبلیوں سے پاس کروانا چاہیے، اس بار عجیب رسم چلی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اہل اقتدار کی بھی مسلسل ’منجی ٹھوکی‘ جا رہی ہے، مگر وہ اتنے بے بس ہیں کہ اونچی آواز میں رو بھی نہیں پا رہے۔
کالم نگار نے مزید لکھا کہ اسٹیبلشمنٹ یا اہل حکم کے لیے اپنا، پرایا، اتحادی یا مخالف کوئی اہمیت نہیں رکھتا، صرف ان کا اپنا ایجنڈا اہم ہے، اس ری سیٹ منصوبے میں اگر اپنوں کا بسترا گول ہوتا ہے تو اہل حکم کو اس کی کوئی پروا نہیں، یہ وہم اب دور ہو چکا ہے کہ وزیراعظم کی 18 گھنٹے کی محنت سے نظام ٹھیک ہو جائے گا، اندیشہ ہے کہ نظام کی چولیں ٹھیک کرتے کرتے سیاست کے یہ ناتجربہ کار بڑھئی کہیں پوری کھاٹ یعنی نظام ہی نہ الٹا دیں، اگر نظام یا کھاٹ اوندھی ہوئی تو اس کھیل میں سب سے بڑا گھاٹا اہل حکم کا ہی ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert