‘دو آدمی مجھے اٹھا کر بھاگے’، نائن الیون سے متعلق ٹرمپ نے دلچسپ واقعہ سنا دیا

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد ایک موقع پر دو فائر فائٹرز انہیں اٹھا کر وہاں سے بھاگ نکلے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ایک عمارت ان پر گر سکتی ہے۔
انہوں نے یہ واقعہ وائٹ ہاؤس میں نائن الیون حملوں کے امدادی کارکنوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنایا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اپنی تعمیراتی کمپنی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ حملے کے فوراً بعد گراؤنڈ زیرو پہنچے تھے۔ ان کے بقول وہاں موجود ایک عمارت سے چرچرانے کی آوازیں آرہی تھیں اور خدشہ تھا کہ وہ منہدم ہوجائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ دو طاقتور فائر فائٹرز نے انہیں بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور وہاں سے بھاگنے لگے۔ “میں نے کہا، ‘میں خود بھاگ سکتا ہوں یار’، مگر وہ بھاگتے رہے، کیونکہ انہیں لگا تھا کہ یو ایس اسٹیل کی عمارت گرنے والی تھی۔”
تاہم امریکی میڈیا بشمول سی این این نے اپنی رپورٹس میں قرار دیا ہے کہ نائن الیون حملوں کے حوالے سے ٹرمپ کے سنائے گئے واقعے کے حق میں شواہد موجود نہیں جبکہ ان کے بیان کے بعض حصے گمراہ کن بھی ہیں۔
سی این این نے اپنی فیکٹ چیک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 11 ستمبر کو حملے کے وقت ٹرمپ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے کئی میل دور مڈ ٹاؤن مین ہٹن میں ٹرمپ ٹاور میں موجود تھے۔ ٹرمپ نے بعد میں 2016 میں اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فائر فائٹرز کا انہیں اٹھانے کا واقعہ حملوں کے ’ایک دو روز بعد‘ پیش آیا تھا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے دعوے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے بیان کی گئی تمام باتیں درست تھیں۔ انہوں نے اس واقعے کی حقیقت پر سوال اٹھانے والے صحافیوں اور میڈیا آرگنائزیشنز کو فیک نیوز کی فیکٹریاں قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ “وہ میرے 3 بار صدارتی انتخابات جیتنے پر غصے میں ہیں۔”
سی این این کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اس واقعے کے مزید شواہد یا تفصیلات فراہم نہیں کیں اور مؤقف اختیار کیا کہ اُس وقت ٹرمپ ایک عام شہری تھے، اس لیے ان کی ہر سرگرمی کا ریکارڈ ہونا ضروری نہیں۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ نے جس عمارت کا ذکر کیا اسے 2001 میں ’یو ایس اسٹیل بلڈنگ‘ کہا، جو ون لبرٹی پلازا کے نام سے معروف تھی۔ حملوں کے بعد واقعی اس عمارت کے منہدم ہونے کے خدشات پیدا ہوئے تھے، تاہم شہری حکام نے اسے ساختی طور پر محفوظ قرار دیا تھا۔ 12 اور 14 ستمبر کو عمارت سے امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو ممکنہ خطرے کے باعث باہر نکالے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
سی این این نے واضح کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ٹرمپ اس عمارت کے اندر موجود تھے یا انہیں فائر فائٹرز نے وہاں سے نکالا تھا۔
اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے اس دعوے کے بھی کوئی شواہد سامنے نہیں آئے کہ انہوں نے گراؤنڈ زیرو پر امدادی کارروائیوں کے لیے اپنے کارکنوں کی بڑی ٹیم بھیجی تھی۔ نیویارک فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق اگر ٹرمپ واقعی 100 کارکنوں کی ٹیم لے کر وہاں پہنچے ہوتے تو اس کا کوئی نہ کوئی ریکارڈ ضرور موجود ہوتا۔
ٹرمپ نے اپنی حالیہ گفتگو میں یہ بھی کہا کہ ون لبرٹی پلازا ’اب بھی چرچراتی ہے‘، تاہم سی این این کے مطابق اس دعوے کی بھی کوئی بنیاد سامنے نہیں آئی۔ عمارت اکتوبر 2001 میں دوبارہ کھول دی گئی تھی اور آج بھی معمول کے مطابق زیر استعمال ہے۔
