امریکہ نے 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کردیئے، ایران کی بھرپور جوابی کارروائی
اردن میں امریکی اہداف پر اندھا دھند میزائل برسادیئے، امریکی ایئربیس پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے گئے، اس کے علاوہ خلیج فارس میں 20 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کردیا

واشنگٹن، تہران(قدرت روزنامہ)مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے 5 ایرانی خام تیل بردار جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران نے جواباً اردن میں واقع امریکی ایئربیس پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغ دیئے اور خلیج فارس میں 20 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے گزشتہ دو روز کے دوران خلیجی پانیوں میں موجود امریکی بحری جنگی جہاز پر بیلسٹک میزائلوں سے دو مرتبہ حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم امریکی ایئر ڈیفنس اور جنگی جہاز نے دونوں حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا، پاسدارانِ انقلاب کی اس پیش قدمی اور حملوں کے ردِعمل میں امریکی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کردیئے، ان تمام جھڑپوں اور حملوں کے دوران تمام امریکی اہلکار بالکل محفوظ رہے اور خطے کے بین الاقوامی پانیوں میں امریکی بحری گشت جاری ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور پاسدارانِ انقلاب کے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکی کارروائی کے فوراً بعد ایران نے سخت جوابی ایکشن کا اعلان کیا، تہران، اصفہان، تبریز اور خرم آباد کے ملٹری بیسز سے درجنوں بیلسٹک میزائل داغے گئے، پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے الازرق کو نشانہ بناتے ہوئے دو درجن سے زائد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
روسی میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ اردن میں پینٹاگون کا جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہو چکا ہے، صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہوئے ایرانی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب نے خلیجی ممالک کویت اور بحرین کو امریکی اقدامات میں برابر کا شریک قرار دیا ہے، ایرانی مسلح افواج نے انتباہ جاری کیا ہے کہ کویت اور بحرین کی بندرگاہوں پر لنگرانداز یا موجود تمام آئل ٹینکرز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، لہٰذا تمام بحری جہازوں کا عملہ فوراً انخلا کر جائے۔
