جو لوگ مجھے استعفے کا طعنہ دے رہے ہیں، پہلے وہ خود اپنا استعفیٰ جمع کرائیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) رکن قومی اسمبلی پی ٹی آئی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ جو لوگ مجھے استعفے کا طعنہ دے رہے ہیں، پہلے وہ خود اپنا استعفیٰ جمع کرائیں، ان سب لوگوں کی میں نے ہاتھ پکڑ کر انتخابی مہم چلائی، اُس وقت خوف اور دباؤ کا ماحول تھا، اگر میں میدان میں نہ نکلتا تو شاید پارٹی کا وجود ہی خطرے میں پڑ جاتا۔
ایکس کے مطابق انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مجھے استعفے کا طعنہ دے رہے ہیں، پہلے وہ خود اپنا استعفیٰ جمع کرائیں۔ ان سب کی انتخابی مہم تو میں نے چلائی ، جولوگ اپنے حلقوں میں کارنر میٹنگ تک نہیں کر سکتے تھے، میں ان سب کے حلقوں میں گیا، ان لوگوں کو ہاتھ سے پکڑ کر ان کی مہم چلائی۔ اُس وقت خوف ، ڈر اور دباؤ کا ماحول تھا، اگر میں میدان میں نہ نکلتا تو شاید پارٹی کا وجود ہی خطرے میں پڑ جاتا۔
شیر افضل خان مروت نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مجھ سے سوال کرنے سے پہلے عمران خان کے سوالات کے جواب دیں۔ عمران خان کا واضح مؤقف تھا کہ صوبے میں ڈرون حملے نہیں ہونے چاہئیں، اور اگر ایسے واقعات ہوں تو ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔ عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی نئے آپریشن کی اجازت نہ دی جائے، مگر اس کے برعکس آپریشنز کے لیے باقاعدہ فنڈز مختص کیے گئے۔
خان صاحب نے کہا حکومت جاتی ہے تو جائے آپ نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے آئین سے متصادم اقدامات کے خلاف مزاحمت کرنی ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ آج بھی آپ کی اپنی حکومت میں مراد سعید کا سیکریٹری اغوا ہے۔ اپنی حکومت کے ہوتے ہوئے ہری پور میں الیکشن چوری کیا گیا۔ وزیراعلیٰ صاحب بتائیں، آپ نے کون سی کامیابی حاصل کی ہے؟ گیارہ ماہ گزر گئے، آج تک عوام کو صرف ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جا رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی اور آزادی کے لیے کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔
