محمود الرشید کے گھر مبینہ پولیس کارروائی اور حاجی امتیاز کی گرفتاری پر پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کے سخت سوالات

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پی ٹی آئی رہنما جنید اکبرکا کہنا ہے میاں محمود الرشید کے گھر پر پولیس کے چھاپے، اہلِ خانہ کے ساتھ بدسلوکی اور گھر میں توڑ پھوڑ کی اطلاعات انتہائی افسوسناک، شرمناک اور دل دہلا دینے والی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد میاں محمود الرشید کی اہلیہ کی طبیعت بگڑ گئی۔ آخر سیاسی اختلاف اور انتقام کی آگ میں گھروں کی چار دیواری، خواتین کی عزت اور ماؤں کا سکون بھی جلا دیا جائے گا؟ کیا اختلافِ رائے کی سزا اب پورے خاندانوں کو دی جائے گی؟ یہ صرف ایک گھر کی بے حرمتی نہیں، بلکہ ہماری معاشرتی اقدار، قانون اور انسانی وقار پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ریاست کا کام شہریوں کے گھروں کی حفاظت کرنا ہے، انہیں خوف اور اذیت میں مبتلا کرنا نہیں۔یہ ظلم کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

جنید اکبر نے مزید کہا عمران خان سے وفاداری کیا اب اتنا بڑا جرم بن چکی ہے کہ ایک منتخب ایم این اے ، حاجی امتیاز کو ہتھکڑیوں میں عدالت لایا جائے؟ مبینہ طور پر پہلے انہیں اغواء کیا گیا، دو دن بعد ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا، پھر PTI چھوڑنے اور اپنی نشست خالی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ ان کے بقول، کسی اور شخص کو پیسے کے عوض ضمنی انتخاب میں دوبارہ کامیاب کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ یہ صرف حاجی امتیاز کی توہین نہیں، بلکہ لاکھوں ووٹرز کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ یہ جمہوریت نہیں، کھلا سیاسی انتقام ہے!

WhatsApp
Get Alert