پہلی بار مکہ مکرمہ میں ایمرجنسی سائرن بجنا امتِ مسلمہ کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے، مفتی تقی عثمانی
ان نازک حالات میں سعودیہ پر حملے قابل مذمت اور تشویشناک ہیں، اس موقع پر امریکہ کا سعودی عرب کی مدد سے انکار امت کے خلاف اس کے روایتی مذموم عزائم کا حصہ ہے؛ معروف عالمِ دین کا پیغام

کراچی(قدرت روزنامہ)عالمی شہرت یافتہ معروف عالمِ دین مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ میں تاریخ میں پہلی بار ایمرجنسی سائرن کا بجنا پوری امتِ مسلمہ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک انتہائی اہم اور فکر انگیز تحریر جاری کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی نے سعودی عرب کی حدود بالخصوص مکہ مکرمہ پر ہونے والے حملوں اور سائرن بجنے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، انہوں نے ان حساس حالات میں سعودی عرب کو ہدف بنانے کے عمل کو شدید ترین الفاظ میں مذمت کا نشانہ بنایا ہے۔
في هذه الظروف الحساسة، فإن استهداف المملكة العربية السعودية بالهجمات أمرٌ بالغ الخطورة ويستوجب الإدانة، وإن إطلاق صفارات الإنذار في مكة المكرمة لأول مرة في التاريخ ليمثّل ناقوس خطرٍ للأمة الإسلامية جمعاء. وفي هذا الظرف، فإن إحجام أمريكا عن مساندة المملكة العربية السعودية يكشف…
— Muhammad Taqi Usmani (Official) (@muftitaqiusmani) September 16, 2026
انہوں نے خطے کی ہنگامی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ان انتہائی حساس اور نازک حالات میں برادر ملک مملکتِ سعودی عرب کو حملوں کا نشانہ بنانا ایک انتہائی خطرناک اور شدید قابلِ مذمت معاملہ ہے، تاریخ میں پہلی بار مقدس شہر مکہ مکرمہ میں ایمرجنسی سائرن کا بجنا محض ایک عام واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا انتباہ اور خطرے کی گھنٹی ہے۔
اس کے علاوہ اپنے اس بیان میں مفتی تقی عثمانی نے موجودہ بحران کے دوران امریکہ کے دوہرے معیار اور سکیورٹی تعاون سے پس و پیش کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ اس نازک موڑ پر سعودی عرب کی مکمل حمایت اور دفاع سے امریکہ کا ہچکچانا اور انحراف کرنا دراصل امتِ مسلمہ کے خلاف اس کے روایتی، طویل المیعاد اور مذموم عزائم کا پردہ چاک کرتا ہے۔
