اقوام متحدہ اجلاس، وزیراعظم نے پاکستانی وفد مختصر کر دیا

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد کو مختصر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ ملکی حالات اور حکومتی دوروں میں سادگی اختیار کرنے کی پالیسی کے تحت متعدد وفاقی وزرا کے نام وفد سے خارج کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ نیویارک وفد میں صرف وزیراعظم، اسحاق ڈار اور طارق فاطمی ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، وزیر منصوبہ بندی اور بعض دیگر وزرا کے نام مجوزہ وفد سے نکال دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کو حکومت کی جانب سے بیرونِ ملک سرکاری دوروں کے اخراجات اور وفود کے حجم کو محدود رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
21 ستمبر کو نیویارک روانگی
وزیراعظم شہباز شریف 81ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے رواں ہفتے امریکہ پہنچیں گے۔ وزیراعظم 17 ستمبر کو لندن پہنچ چکے ہیں اور وہاں مختصر قیام کے بعد نیویارک روانہ ہوں گے۔ وزیراعظم آفس کے ذرائع کے مطابق ان کی واپسی 26 ستمبر کو متوقع ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 81ویں جنرل اسمبلی کا ہائی لیول ویک 18 سے 28 ستمبر 2026 تک جاری ہے جبکہ سربراہانِ مملکت و حکومت کا جنرل ڈیبیٹ 22 سے 28 ستمبر تک ہوگا۔ رواں سال اجلاس کا مرکزی موضوع ہے
25 ستمبر کو شہباز شریف کا خطاب
وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم عالمی اور علاقائی صورتحال پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیں گے۔
وفد مختصر رکھنے کا پس منظر
اس بار وفد محدود رکھنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری پر زور دے رہی ہے۔ اگرچہ وفد کی حتمی فہرست کے تمام نام ابھی سرکاری طور پر جاری نہیں کیے گئے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے غیر ضروری سرکاری دوروں اور بڑے وفود کے بجائے ضروری حکام تک شرکت محدود رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
اس حوالے سے طارق فاطمی کا ممکنہ طور پر وزیراعظم کے ساتھ رہنا بھی اہم ہے، کیونکہ وہ خارجہ امور اور بین الاقوامی سفارت کاری کے معاملات میں وزیراعظم کے معاون کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے اہم سفارتی موقع
وزیراعظم کا یہ دورہ صرف جنرل اسمبلی سے خطاب تک محدود نہیں ہوگا۔ نیویارک میں پاکستان کو عالمی رہنماؤں کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتوں کا موقع ملے گا۔
موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کے لیے خاص طور پر یہ معاملات اہم ہوں گے:
امریکہ سے تعلقات، ایران کا بحران، افغانستان، بھارت اور کشمیر، فلسطین، سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ روابط، دہشت گردی، معاشی تعاون اور عالمی مالیاتی اداروں سے متعلق معاملات۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کی ملاقاتوں کا مقصد پاکستان کے علاقائی اور عالمی مؤقف کو اجاگر کرنا اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم کی تقریر میں متوقع طور پر یہ اہم موضوعات شامل ہوں گے:
فلسطین اور غزہ کی صورتحال
مقبوضہ جموں و کشمیر
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع
علاقائی امن و سلامتی
دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون
اسلاموفوبیا
موسمیاتی تبدیلی
پائیدار ترقی اور عالمی معاشی چیلنجز
گلوبل ساؤتھ کے مسائل
اقوام متحدہ میں اصلاحات
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیویارک میں عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
امریکہ، ایران کشیدگی بھی اہم موضوع
اس مرتبہ وزیراعظم کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سفارت کاری کا بڑا موضوع بنی ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کا پرامن اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی اجاگر کریں گے۔
