پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 65 پیسے سستا جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 88 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا۔ پیٹرول کی نئی قیمت 389 روپے 14 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 424 روپے 4 پیسے مقرر کردی گئی۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔ پیٹرول ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی اپنے مارجن میں فوری اضافے کا مطالبہ کردیا۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے چیئرمین اوگرا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ کمپنیوں کے مارجن میں ایک روپے 22 پیسے فی لیٹر اضافے کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔
کونسل کے مطابق ستمبر 2023ء کے بعد سے آئل کمپنیوں کے مارجن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ اگست میں ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ کمپنیوں کے مارجن میں اضافے کا فیصلہ تاحال عملدرآمد کا منتظر ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2026ء سے آئل کمپنیوں کے 66 ارب روپے کے پرائس کلیمز زیر التوا ہیں، جو پٹرول کے 5 درآمدی کارگوز کی مالیت کے برابر ہیں۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے کہا کہ کمپنیاں شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث سپلائی چین کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ مالی مشکلات کے باعث اگر سپلائی متاثر ہوئی تو اس کی ذمہ داری آئل کمپنیوں پر عائد نہیں ہوگی۔کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ زیر التوا پرائس کلیمز کی تصدیق کا عمل فوری مکمل کرکے واجبات ادا کیے جائیں اور معاملے کے حل کیلئے چیئرمین اوگرا کے ساتھ فوری ملاقات کی جائے۔
مزید برآں مشرق وسطی سے تیل کی سپلائی میں بڑی رکاوٹ نہ آنے کی امید کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز تقریبا ایک فیصد کم ہوگئیں، تاہم خام تیل کی قیمت اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے۔ جمعے کو ابتدائی کاروبار میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1.01 ڈالر یعنی ایک فیصد کمی کے بعد 103.77 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.03 ڈالر کمی کے بعد 100.88 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔دونوں عالمی بینچ مارک کی قیمتیں جمعرات کو بھی تقریبا ایک فیصد کم ہوئی تھیں۔ مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ یہ امید ہے کہ مشرق وسطی سے تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستے دستیاب ہوسکتے ہیں، جس سے عالمی سپلائی پر دبا کم رہ سکتا ہے۔
