سینئر صحافی نصیر احمد کاکڑ پر تشدد آزادی صحافت پر کھلا حملہ ہے، ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے: خضدار پریس کلب
سچائی کو سامنے لانے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے والوں کی آواز کو دبانا برداشت نہیں کیا جائے گا

واقعہ پوری صحافتی برادری کی زبان بندی کی ناکام کوشش ہے، متاثرہ صحافی کے حقوق اور تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے
خضدار(ڈیلی قدرت کوئٹہ)سینئر صحافی نصیر احمد کاکڑ پر تشدد آزادی صحافت پر حملہ ہے خضدار پریس کلب کی مذمت خضدار پریس کلب کے عہدیداروں اور اراکین نے سینئر صحافی نصیر احمد کاکڑ پر ہونے والے واقعہ کی مذمت کی ہے ۔ جاری کردہ بیان میں اس واقعہ کو صحافتی برادری کے خلاف ایک سنگین سازش اور کھلی غنڈہ گردی قرار دیا گیا ہے۔ خضدار پریس کلب کے رہنماں کا کہنا ہے کہ سچائی کو سامنے لانے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے والے صحافیوں پر تشدد کا مقصد ان کی آواز کو دبانا ہے۔ یہ کارروائی نہ صرف ایک فرد بلکہ پوری صحافتی برادری کی زبان بندی کی ناکام کوشش ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ خضدار پریس کلب اپنے متاثرہ ساتھی نصیر احمد کاکڑ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ۔ خضدار پریس کلب ہر قانونی اور صحافتی فورم پر سینیئر صحافی نصیر کاکڑ کے حقوق اور تحفظ کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔ خضدار پریس کلب نے صوبائی حکومت، بالخصوص وزیراعلی بلوچستان اور آئی جی پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں۔ پولیس انتظامیہ کو پابند کیا جائے کہ وہ حملے میں ملوث ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
