جمعیت علمائے اسلام ایک صدی سے اسلام، آئین اور جمہوریت کی پاسبان ہے، نظریاتی قوتوں کو نشانہ بنانے کے پس پردہ محرکات تشویشناک ہیں: مولانا عبدالواسع
دین اور سیاست کو جدا کر کے معاشرے میں عدل و فلاح قائم نہیں کی جا سکتی، جے یو آئی کی جدوجہد کسی فرد نہیں بلکہ قومی استحکام کے لیے ہے

کوہاٹ دھماکہ انسانیت سوز اور پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے، امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر بیانات کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر جے یو آئی کے کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام محض سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریاتی و فکری تحریک ہے جو گزشتہ ایک صدی سے اسلام، آئین، جمہوریت، قومی خودمختاری اور عوامی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، یہ جنگ آج کی نہیں بلکہ سو سالہ جدوجہد کا تسلسل ہے، برصغیر میں فرنگی استعمار نے جس فکری و سیاسی مزاحمت کا سامنا کیا تھا، آج اسی جدوجہد کے وارث ان قوتوں اور ان کے نظریاتی و سیاسی اثرات کے خلاف میدان میں موجود ہیں؛ جمعیت علماء اسلام آج بھی پاکستان کے آئینی، جمہوری اور قومی مفاد کے ساتھ کھڑی ہے، مجلس ختم نبوت اور وفاق المدارس بھی ملک کے دینی، آئینی اور قومی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود اگر مسلسل انہی دینی اداروں، مذہبی قوتوں اور نظریاتی جماعتوں کو نشانہ بنایا جائے تو یہ صورتحال سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے اور اس کے پس پردہ مقاصد اور محرکات پر غور ناگزیر ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمِ اسلام کی فکری و سیاسی تاریخ میں شیخ الاسلام مولانا محمود حسن سے لے کر مفتی محمود اور آج کے دور میں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن تک ایک ایسی روشن فکری و سیاسی روایت موجود ہے جس نے مسلمانانِ برصغیر کے سیاسی شعور کو منظم نظریاتی بنیاد فراہم کی اور اسلام کی اجتماعی، سیاسی، معاشی اور اخلاقی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے ساتھ جوڑنے کی علمی و سیاسی جدوجہد کی؛ جمعیت علمائ اسلام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جس میں عدل، معاشرت، معیشت، اخلاق، سیاست اور حکمرانی سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی موجود ہے، اسی لیے دین اور ریاست کو ایک دوسرے سے جدا کرکے معاشرے میں پائیدار عدل، اخلاقی نظم اور حقیقی فلاح قائم نہیں کی جاسکتی۔ سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علمائ اسلام کی جدوجہد کسی فرد، گروہ یا وقتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ملک کے آئینی استحکام، سیاسی شراکت، جمہوری تسلسل اور عوام کے بنیادی حقوق کے لیے ہے، ہم قومی مسائل کا حل تصادم، انتقام اور تقسیم میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، آئینی راستے اور وسیع تر قومی اتفاقِ رائے میں سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کوہاٹ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز واقعہ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات پوری قوم کے لیے لمح? فکریہ ہیں؛ ملک کے بعض حصوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور حکومتی رٹ کے کمزور ہونے کے باعث عوام مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ ناقص گورننس، انتظامی کمزوری اور امن و امان کے بحران کی قیمت ریاست اور عوام دونوں ادا کر رہے ہیں، صورتحال کا روز بروز تشویشناک ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومتیں محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مؤثر حکمتِ عملی، مضبوط انتظامی اقدامات اور سیاسی و قومی سطح پر سنجیدہ مشاورت کے ذریعے امن، آئین کی بالادستی اور ریاستی رٹ کو یقینی بنائیں۔
