کوئٹہ شہر کو روزانہ 60 ملین گیلن پانی درکار، واسا صرف 31 ملین گیلن فراہم کرنے کے قابل، فنڈز کی قلت سے 167 ٹیوب ویلز غیر فعال
بجلی کے بھاری بلوں اور مالی بحران نے ادارے کو جکڑ لیا، ہزاروں نجی کمرشل ٹیوب ویلز تاحال غیر رجسٹرڈ ہیں

شہریوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی کے لیے ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرنا اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے: کمشنر کوئٹہ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) 18ستمبر۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت کوئٹہ شہر میں شہریوں کو پانی کی فراہمی، واسا کی کارکردگی اور انتظامی امور کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایم ڈی واسا مجیب الرحمن کاکڑ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ایم ڈی واسا مجیب الرحمن کاکڑ نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو شہر میں فراہمی آب کی صورتحال، واسا کو درپیش مشکلات، غیر فعال ٹیوب ویلز، مالی مسائل اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں واسا کے مجموعی طور پر 544 ٹیوب ویلز موجود ہیں، جن میں سے 387 فعال ہیں جبکہ 167 ٹیوب ویلز فنڈز کی کمی کے باعث غیر فعال ہیں اور ان کی مرمت نہیں ہو سکی۔ ایم ڈی واسا کے مطابق واسا کوئٹہ میں فراہمی آب کے نظام کو دو زونز، چلتن زون اور زرغون زون میں تقسیم کرکے شہریوں کو پانی فراہم کر رہا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں شہریوں کی روزانہ پانی کی ضرورت تقریباً 60 ملین گیلن ہے، جبکہ واسا اس وقت تقریباً 31 ملین گیلن پانی روزانہ فراہم کر رہا ہے۔ یوں طلب اور رسد میں نمایاں فرق موجود ہے، جسے بڑی حد تک نجی ٹیوب ویلز کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔
ایم ڈی واسا نے بتایا کہ واسا کے ٹیوب ویلز کے علاوہ شہر میں تقریباً 998 زرعی ٹیوب ویلز اور 1400 کے قریب کمرشل ٹیوب ویلز بھی موجود ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان میں سے بیشتر نجی کمرشل ٹیوب ویلز غیر رجسٹرڈ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ واسا کو اپنے غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تنخواہوں، بجلی کے بلوں، کنٹیجنسی اخراجات، ٹیوب ویلز کی مرمت اور دیگر ضروری مینٹیننس کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت ہے۔ مالی وسائل کی کمی کے باعث متعدد ٹیوب ویلز کی مرمت اور بحالی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں گھریلو و کمرشل صارفین کی تعداد 97 ہزار سے زائد ہے، جن سے واسا کو تقریباً 240 ملین روپے سالانہ ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ بریفنگ کے مطابق صوبائی بجٹ میں واسا کے لیے تقریباً 3 ارب 705 ملین روپے مختص کیے جاتے ہیں، جبکہ واسا کے مجموعی اخراجات 4 ارب 64 ملین روپے سے زائد ہیں، جس کے باعث ادارے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ دشت وال فیلڈ بند ہونے کے باعث سریاب کے بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کوئٹہ کے شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واسا کے غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی اور مرمت کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو درپیش پانی کے مسئلے کے حل کے لیے دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی (سولر) پر منتقل کرنے کے حوالے سے جامع تجاویز مرتب کی جائیں تاکہ بجلی کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور فراہمی آب کے نظام کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔
