نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنائے بغیر انہیں مؤثر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا: مینا مجید بلوچ
بلوچستان کی 72 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، تاریخ میں پہلی بار جامع یوتھ پالیسی متعارف کرائی گئی

دنیا کو نوجوانوں کے لیے “گلوبل یوتھ ہب” تشکیل دینا چاہیے تاکہ وہ تعلیم، ہنر اور ٹیکنالوجی کے تبادلے سے فائدہ اٹھا سکیں: 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس سے خطاب
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ نے 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی اور مستقبل کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، پاکستان کی 62 فیصد جبکہ بلوچستان کی 72 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان ایک متحرک اور نوجوان قوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں 30 فیصد سے زائد نوجوان اراکین کی موجودگی جمہوری اداروں میں نئی نسل کی مؤثر نمائندگی کا مظہر ہے۔ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی خاتون مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان کی حیثیت سے نوجوانوں کو جمہوری اور ریاستی امور میں مؤثر طور پر شامل کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ مینا مجید بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں 18 سال کی عمر میں ووٹ کا حق اور بلدیاتی اداروں میں شمولیت کے مواقع نوجوانوں کو حاصل ہیں، تاہم نوجوان نسل کو درپیش سب سے بڑا اور حقیقی چیلنج روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہے۔ انہوں আমের کہا کہ جب تک ایک نوجوان معاشی طور پر مستحکم اور باوقار روزگار سے وابستہ نہیں ہوگا، وہ مکمل یکسوئی اور مؤثر انداز میں سیاسی و جمہوری عمل میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکتا۔ اس لیے نوجوانوں کی معاشی بااختیاری کو پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ مشیر کھیل و امورِ نوجوانان نے کہا کہ موجودہ دورِ حکومت میں بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار جامع یوتھ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت صوبے کے نوجوانوں کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ منسلک کرکے فنی تربیت، عالمی سطح کی سرٹیفیکیشنز اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے بھی ملک کے چاروں صوبوں میں نوجوانوں کے لیے انٹرپرینیورشپ اور قیادت کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے نوجوانوں کی جمہوری تربیت کا اہم مرکز ہیں، جہاں کالجز اور جامعات میں طلبہ تنظیموں اور مختلف کیبنٹس کے ذریعے نوجوانوں کو جمہوری روایات، اجتماعی فیصلہ سازی اور مسائل کے حل کے طریقہ کار سے روشناس کرایا جارہا ہے۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں جغرافیائی حدود کی اہمیت کم جبکہ ہنر، علم اور تخلیقی صلاحیت کی قدر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا کو نوجوانوں کے لیے ایسے عالمی پلیٹ فارمز تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں مختلف ممالک کے نوجوان ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے خیالات کا تبادلہ اور باہمی اشتراک کرسکیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ عالمی سطح پر ایک “گلوبل یوتھ ہب” قائم کیا جائے، جو دنیا بھر کے نوجوانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرے اور انہیں تعلیم، ہنر، روزگار، انٹرپرینیورشپ، ٹیکنالوجی اور قیادت کے شعبوں میں ایک دوسرے سے منسلک کرنے میں معاون ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مناسب معاشی مواقع، جدید ہنر اور عالمی سطح کے پلیٹ فارمز فراہم کرکے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک باصلاحیت اور پیداواری قوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
