بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی اختیار کردہ جدید نصابی کتب اور SLO پر مبنی AI لیبارٹری کا عالمی سطح پر تعارف


دبئی(قدرت روزنامہ) دنیا کے سب سے بڑے بین الاقوامی کتب میلوں میں شمار ہونے والے فرینکفرٹ بک فیئر 2026ء، جرمنی میں پاکستان نے جدید تعلیم، مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور روبوٹکس کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے پہلی سے بارہویں جماعت تک کی AI & Robotics نصابی کتب اور مکمل ڈیجیٹل تعلیمی ایکو سسٹم AI Robotics 360 کی بین الاقوامی رونمائی اور نصابی نمائش پیش کی۔
ان جدید نصابی کتب کو بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ، پاکستان نے اپنے تعلیمی نظام کے لیے اختیار کیا ہے، جبکہ اس منصوبے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے سے پاکستان، بالخصوص بلوچستان، میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کے فروغ کی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرنے کا موقع ملا۔
ان کتب کے مصنف، ممتاز پاکستانی سائنس دان، ماہرِ مصنوعی ذہانت، محقق اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر عاطف علی (پوسٹ ڈاکٹریٹ AI) اور چیئرمین ڈاکٹر گلاب خان نے فرینکفرٹ بک فیئر میں شرکت کی اور پاکستان کے اس اہم تعلیمی منصوبے کو مختلف ممالک سے آنے والے بین الاقوامی ناشرین، تعلیمی ماہرین، محققین اور ٹیکنالوجی سے وابستہ نمائندوں کے سامنے پیش کیا۔ ان کا بنیادی مقصد نئی نسل کو ابتدائی جماعتوں ہی سے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، پروگرامنگ، کمپیوٹیشنل تھنکنگ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیتوں اور عملی مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں سے روشناس کرانا ہے۔
اس موقع پر پاکستانی تعلیمی مواد کی عالمی سطح پر نمائش نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے بلکہ نئی نسل کو اس کی تخلیق اور عملی استعمال کے قابل بنانے کی سمت بھی پیش رفت کر رہا ہے۔
اس اہم تعلیمی منصوبے کی تیاری، فروغ اور بین الاقوامی سطح پر نمائش کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی اور صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے تعلیمی وژن، سرپرستی اور تعاون کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔
بلوچستان میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے جدید مضامین کو اسکول کی سطح پر متعارف کرانے کا اقدام صوبے کے تعلیمی نظام کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔
اس منصوبے کا مقصد بلوچستان کے دور دراز علاقوں سمیت تمام طلبہ کو جدید سائنسی اور تکنیکی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔
ڈاکٹر عاطف علی نے وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیرِ تعلیم، بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ، چیئرمین ڈاکٹر گلاب خان اور دونوں اشاعتی اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے اقدامات پاکستان میں جدید تعلیم اور تکنیکی مہارتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ڈاکٹر عاطف علی کے تعلیمی وژن کے مطابق، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی تعلیم کو صرف اعلیٰ تعلیمی اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے اسکول سے متعارف کرانا ضروری ہے، تاکہ طلبہ کم عمری ہی سے جدید ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور عملی مہارتوں سے آشنا ہو سکیں۔
اس اقدام نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تعلیمی منصوبوں کو متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ عالمی ناشرین، تعلیمی تنظیموں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ساتھ مستقبل میں اشتراک کے نئے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔یہ منصوبہ اس سوچ کی نمائندگی کرتا ہے کہ بلوچستان کے طلبہ کو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں تک رسائی فراہم کر کے انہیں عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
انٹرنیشنل مون لائٹ پبلشرز اور سگما پبلشر کے اشتراک سے شائع ہونے والی ان کتب اور ان کے ساتھ مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی نمائش اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ سرکاری اداروں، ماہرینِ تعلیم، محققین اور نجی شعبے کے تعاون سے پاکستان میں جدید تعلیم کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
فرینکفرٹ بک فیئر میں اس منصوبے کی رونمائی ایک ایسے تعلیمی مستقبل کی جانب قدم ہے جہاں ہر طالب علم کو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس سیکھنے، سمجھنے اور عملی طور پر استعمال کرنے کے مواقع میسر ہوں۔

WhatsApp
Get Alert