اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز سے اب تک 2 ہزار تک سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، اسد قیصر


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز سے اب تک 2 ہزار تک سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، سوال یہ ہے کہ حکومت آخر جان بوجھ کر امن وامان کی صورتِحال کیوں خراب کرنا چاہتی ہے؟ سہیل آفریدی، جنید اکبر ، وزراء اور تمام گرفتار ارکانِ اسمبلی کو فوری رہا کیا جائے۔
ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا اپنا ایک منفرد سیاسی اور سماجی کلچر ہے، جہاں شدید سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی احترام، رواداری اور روایات کا پاس رکھا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی انتقام اور مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
اطلاعات کے مطابق، گزشتہ روز سے اب تک 2,000 تک سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ حکومت آخر جان بوجھ کر امن و امان کی صورتِ حال کو کیوں خراب کرنا چاہتی ہے اور صوبے میں سیاسی کشیدگی کو ہوا دے کر حالات کو کس طرف لے جانا چاہتی ہے؟ چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی، سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے اور اراکینِ اسمبلی کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔
اسد قیصر نے کہا کہ ریاستی اداروں کو سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنانے کے بجائے آئین، قانون اور عوام کے بنیادی حقوق کا پابند بنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف جنید اکبر خان سمیت تمام گرفتار اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، وزراء اور سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ریاستی طاقت، چھاپوں اور گرفتاریوں کے ذریعے سیاسی آوازوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔ سیاسی اختلافات کا جواب انتقامی کارروائیوں سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے دیا جانا چاہیے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو صوبے کے امن و امان کو مزید خراب کرنے کا سبب بنیں۔

WhatsApp
Get Alert