آٹے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے حکومتی گڈ گورننس کا پول کھول دیا، عوام دو وقت کی روٹی سے بھی محروم: پشتونخوا نیپ
محض کاغذی نرخ ناموں سے پیٹ نہیں بھرتا، ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ دے کر غریبوں کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے: اعلامیہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے بلوچستان بھر، بالخصوص کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں آٹے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے، سرکاری نرخوں پر آٹے کی عدم دستیابی اور عوام کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور مثر نگرانی کے فقدان کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔پارٹی کے مطابق کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا تقریبا 3,250 سے 3,330 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ 50 کلو فائن آٹے کی قیمت تقریبا 8,000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بعض اضلاع میں قیمت اس سے بھی تجاوز کرنے کی اطلاعات ہیں۔ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سب سے زیادہ بوجھ مزدوروں، دہاڑی دار محنت کشوں، کم آمدنی والے ملازمین اور غریب خاندانوں پر پڑ رہا ہے، جو پہلے ہی بجلی، گیس، ادویات اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی مہنگائی سے پریشان ہیں۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ کوئٹہ سمیت پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، ژوب، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، زیارت، شیرانی، سبی، کوہلو، بارکھان، موسی خیل، ہرنائی، دکی، برشور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں آٹے کی مناسب قیمتوں پر دستیابی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ محض سرکاری نرخ نامے جاری کرنے سے عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا، بلکہ گندم کی فراہمی اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے مثر اقدامات کرنا ضروری ہیں۔پارٹی نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں گندم کے ذخائر اور آٹے کی فراہمی کی صورتِ حال کا فوری جائزہ لے کر ضرورت کے مطابق گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ تمام اضلاع میں سرکاری نرخوں پر معیاری آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کی مثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی جائے، جبکہ کم آمدنی والے خاندانوں اور محنت کشوں کو رعایتی نرخوں پر آٹا فراہم کیا جائے۔بیان میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ آٹے کی قیمتوں اور سرکاری گندم کے ذخائر سے متعلق مستند اعدادوشمار باقاعدگی سے جاری کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ بنیادی ضروریاتِ زندگی مناسب قیمتوں پر فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عوام کو محض اعلانات کے بجائے عملی ریلیف دیا جائے اور آٹے کی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری، مثر اور قابلِ احتساب اقدامات کیے جائیں۔ پارٹی نے کہا کہ وہ عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
