فارم 47 کی مسلط حکومت کو ریکوڈک اور بلوچستان کے وسائل سستے داموں فروخت کرنے نہیں دیں گے: مولانا عبدالواسع
نئے شفاف انتخابات کے بغیر امن کا قیام ناممکن، گورنر راج کی سازشیں مسترد، بارڈر ٹریڈ پر پابندیاں ختم کی جائیں: جے یو آئی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے صوبائی مجلسِ عاملہ کے اراکین کے ہمراہ ایک اہم و مفصل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک اور صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی حق و سچ کا علم بلند رکھے گی، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہے گی، اور قائدِ جمعیت کی کردار کشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پریس کانفرنس کے دوران سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ 2018 کی طرح ملک بھر میں فارم 47 کی بنیاد پر حکومتیں قائم ہیں، حتی کہ محسن نقوی بھی فارم 47 والے فارمولے کی مخالفت کر چکے ہیں۔ انہوں نے شفاف اور فوری عام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئے اور شفاف الیکشنز کرانے سے ہی امن و امان قائم ہوگا اور دہشت گردی کے خاتمے سمیت تمام دیگر بحران حل ہوں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عوام کو بیدار کرنے اور منظم کرنے کے لیے جے یو آئی 17 سے 25 نومبر تک بلوچستان کے تمام اضلاع کا تفصیلی دورہ کرے گی۔مولانا عبدالواسع نے خیبر پختونخوا کے حصوں میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بھی گورنر راج کا قیام غیر قانونی ہوگا، جسے مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مائنز اینڈ منرلز اور مدارس کے ایکٹس کو باقاعدہ بلوچستان اسمبلی کے فلور پر پیش کیا جائے، کیونکہ ریکوڈک سمیت تمام قومی و صوبائی وسائل پر جے یو آئی کا دوٹوک اور واضح موقف ہے اور کسی کو عوامی وسائل سستے داموں فروخت کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے پاک افغان اور پاک ایران سرحدی تجارت پر پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بارڈرز کو فوری کھولنے اور مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
