مہنگی ایل پی جی سے تندور مالکان اور شہری پریشان‘روٹی20روپے تک پہنچ گئی
چھوٹے کاروبار میں آمدن اور اخراجات روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں‘حکومت اربوں پتی ہول سیلرزسے قیمتیں کم کروائے. دوکانداروں کا موقف

لاہور(قدرت روزنامہ)مہنگی ایل پی جی سے تندور مالکان اور شہری پریشان ہوگئے تندور مالکان نے روٹی کی قیمت میں خودساختہ اضافہ کر دیا ہے مختلف علاقوں میں روٹی 17 سے 20 روپے کی فروخت ہونے لگی. تندور مالکان کا کہنا ہے کہ 300 روپے کلو والی ایل پی جی کو من مانے نرخوں پر بیچا جا رہا،600 روپے کلو ایل پی جی لیکرروٹی کی قیمت بڑھنا مجبوری ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی ہو یا روٹی ، انتظامیہ اور حکومت کو چاہیے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرے ، خود ساختہ اضافے سے ہر دکاندار من مانی کررہا ہے جس سے مہنگائی سے تنگ عوام مزیدپس رہی ہے.
شہریوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اور ڈی سی سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے سرکاری نرخ نامے پر عمل کروانے کی اپیل کی ہے تاہم ہوٹل‘تندور‘ریسٹورنٹس‘بیکریوں سمیت گیس استعمال کرنے والے چھوٹے کاروباری لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی آمدن اور اخراجات روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ بڑے کاروبارکی طرح ہم ایل پی جی سٹور کرسکتے ہیں نہ ہی چند ماہ کا نقصان اپنے ذمہ ڈال سکتے ہیں‘ان کے مطابق بجلی‘گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہر چیزپر اثراندازہوتا ہے ہمارے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے اسی طرح خام مال سپلائی کرنے والوں نے بھی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے .
دکان داروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کے لیے سب سے آسان اور کمزور ٹارگٹ دوکان دار ہیں جب بھی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے چھاپوں اور جرمانوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے حکومت ہول سیلرزسے قیمتیں کم نہیں کرواتی‘ہول سیلرز ارب پتی لوگ ہیں وہ چند کروڑکا نقصان برداشت کرسکتے ہیں اسی طرح حکومت ٹرانسپورٹیشن‘بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کردے تو چھوٹے دوکانداروں کو گورنمنٹ ریٹ پر اشیاءبیچنے میں کوئی مسلہ نہیں.
