ایل پی جی صارفین کیلئے اچھی خبر، عمان سے گیس کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکان

کراچی (قدرت روزنامہ) پاکستان میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان صارفین کیلئے اچھی خبر سامنے آئی ہے، عمان سے ایل پی جی لے کر آنے والے 2 بحری جہاز کراچی کے پورٹ قاسم پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد ملک میں گیس کی دستیابی بہتر ہونے اور قیمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق دونوں بحری جہاز ایل پی جی کی ہزاروں میٹرک ٹن کھیپ لے کر پاکستان پہنچے ہیں، پریانیس نامی جہاز نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ٹرمینل پر 4 ہزار 250 میٹرک ٹن ایل پی جی آف لوڈ کی، جبکہ الیسا ون نامی جہاز نے اینگرو ٹرمینل پر 3 ہزار 83 میٹرک ٹن گیس اتاری۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی درآمدی کھیپ کی آمد سے مقامی مارکیٹ میں ایل پی جی کی سپلائی بہتر ہونے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں پیر سے قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، تاہم قیمتوں میں ممکنہ کمی کی مقدار کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
ایران سے ایل پی جی کی رکی ہوئی ترسیل بھی بحال ہونے کی امید
دوسری جانب پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی راستے سے ایل پی جی کی درآمدات میں حائل رکاوٹیں دور ہونے کی بھی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جنگ کی رپورٹ کے مطابق پیر سے ایرانی سرحد کے ذریعے ایل پی جی کی رکی ہوئی ترسیل دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
اس سے قبل 24 اکتوبر کو جنگ نے ایل پی جی ڈیلرز کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کی سرحد پر 16 اکتوبر سے کھڑے ایل پی جی کے باؤزرز کو پاکستان لانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور گیس کی ترسیل کا عمل شروع ہو گیا ہے، تاہم سرحدی گزرگاہوں پر محدود تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور تمام درآمدی سامان کی معمول کے مطابق کلیئرنس دو الگ معاملات ہیں، اس لیے ایران سے ایل پی جی کی مکمل اور بلاتعطل سپلائی بحال ہونے کی صورتحال ابھی واضح ہونا باقی ہے۔
ایرانی سفیر نے بھی سرحدیں بند کرنے کی تردید کی تھی
پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اتوار کو اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران نے پاکستان کیلئے اپنی سرحدیں بند نہیں کیں اور ایل پی جی سمیت ایرانی مصنوعات کی برآمدات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، پاکستان کے درآمدی ای فارم کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کے باعث تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی سے لدے کئی سو ٹرک ایرانی سرحد عبور کرکے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کے باوجود کئی ہفتوں سے کلیئرنس کے منتظر ہیں، اس مسئلے کے حل کیلئے پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور ایران دونوں ممالک کے درمیان تجارت معمول پر لانے کیلئے تعاون کر رہا ہے۔
ایل پی جی کی قیمتیں کہاں تک پہنچ گئی تھیں؟
ایران سے ایل پی جی کی درآمدات میں رکاوٹوں کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، شمالی پہاڑی علاقوں میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی تھی، جبکہ 11.8 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر بعض علاقوں میں 7 ہزار 200 روپے تک فروخت ہونے کی اطلاعات تھیں۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں بھی ایل پی جی تقریباً 500 روپے فی کلوگرام فروخت ہو رہی تھی، جبکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت بعض مقامات پر 6 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی، یہ قیمتیں اکتوبر کیلئے اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت سے نمایاں طور پر زیادہ تھیں، جس کے باعث صارفین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کیا اب ایل پی جی فوری سستی ہو جائے گی؟
مارکیٹ ذرائع نے کہا ہے کہ عمان سے نئی درآمدی کھیپ پہنچنے اور ایران سے زمینی راستے کے ذریعے سپلائی میں بہتری آنے کی صورت میں ایل پی جی کی دستیابی بڑھ سکتی ہے، جس سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان ہے، تاہم قیمتوں میں حقیقی کمی کا انحصار درآمدی گیس کی مارکیٹ تک ترسیل، ڈسٹری بیوٹرز کو دستیاب مقدار اور سرحدی کلیئرنس کے معاملات پر ہوگا۔
فی الحال کسی نئی سرکاری خوردہ قیمت یا ملک بھر میں یکساں کمی کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ایل پی جی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی گھریلو صارفین، ہوٹلوں، چھوٹے کاروباروں اور خصوصاً ان علاقوں کے رہائشیوں کیلئے اہم ہوگی جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں اور کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کیلئے ایل پی جی پر انحصار کیا جاتا ہے۔
