سرداری نظام کے خاتمے اور القابات پر پابندی کی قرارداد بلوچستان اسمبلی میں پیش نہ ہو سکی، اسپیکر نے نمٹا دی
1976ء میں سرداری نظام کے خاتمے کا قانون پہلے سے موجود ہے، مکرر قرارداد ایوان میں نہیں آ سکتی: کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی رولنگ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران حق دو تحریک کے رہنما و رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی جانب سے سرداری نظام کے خاتمے اور “سردار” و “نواب” جیسے الفاظ بولنے اور لکھنے پر پابندی سے متعلق جمع کروائی گئی قرارداد ایوان میں پیش نہ ہو سکی اور اسپیکر نے اسے قانونی نکات کی روشنی میں نمٹا دیا۔اجلاس کے دوران اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر)عبدالخالق اچکزئی نے رولنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے صوبے سے سرداری نظام کے مکمل خاتمے کے حوالے سے قرارداد جمع کروائی تھی، اور ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اس قرارداد کو ایوان کی کارروائی اور ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے گا۔اسپیکر اسمبلی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی قانونی حیثیت اور حساسیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومتی اور عدالتی ریکارڈز کا باریک بینی سے جائز لیا گیا۔ اس تمام ریکارڈ کی پڑتال اور چھان بین کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں سرداری نظام کے خاتمے کے لیے 1976 میں ہی باقاعدہ قانون سازی اور قرارداد منظور کی جا چکی ہے۔اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے رولنگ دی کہ چونکہ سرداری نظام کے خاتمے کا قانون پہلے سے موجود ہے، اس لیے مولانا ہدایت الرحمن کی اس موضوع پر مکرر قرارداد کو اسمبلی میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن کی سرداری نظام کے خاتمے کی قرارداد کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا۔
