ایف ڈبلیو او کے ساتھ بلوچستان میں کام کرنے کا تجربہ اچھا نہیں رہا، منصوبے پیٹی ٹھیکیداروں کو دے دیے جاتے ہیں: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
میرے اپنے علاقے میں سڑکوں کا معیار خراب ہوا، این ایچ اے کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز بلوچستان آتے ہی نہیں: اسمبلی اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن ارکان کا شکوہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں اس ادارے کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ اچھا نہیں رہا، جبکہ ان کے علاقے میں تعمیر کی گئی سڑکوں کی حالت بھی خراب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کو ترقیاتی منصوبے اس توقع کے ساتھ دیے جاتے ہیں کہ وہ معیاری کام کرے گی، لیکن عملی طور پر ایسا نظر نہیں آیا۔بلوچستان اسمبلی کے جاری اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ ایف ڈبلیو او منصوبے حاصل کرنے کے بعد انہیں پیٹی ٹھیکیداروں کے حوالے کردیتی ہے، جس سے تعمیراتی کام کے معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ وسائل کے درست استعمال اور معیاری تعمیرات کو یقینی بنایا جاسکے۔میر سرفراز بگٹی نے سڑکوں کی بندش، پلوں کو دھماکوں سے تباہ کرنے اور تعمیراتی مشینری جلانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم پرستی کے دعوے کرنے والے ایسے عناصر بلوچ قوم کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں سے بلوچستان کے عوام اور صوبے کی ترقی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اجلاس کے دوران سابق وزیراعلی بلوچستان اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے بلوچستان میں مثر انداز میں کام نہیں کررہا اور ادارے کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز بلوچستان آتے ہی نہیں ہیں۔اسمبلی اجلاس میں دونوں رہنماں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کے بعد صوبے میں قومی شاہراہوں، ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کا معاملہ زیرِ بحث آگیا ہے۔
