پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اگر انقلاب لانا ہے تو پھر پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھ سکتے، فواد چودھری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سابق وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اگر انقلاب لانا ہے تو پھر پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھ سکتے، عمران خان کے خاندان کی نظربندی میں توسیع پر پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کی قیادت سوائے دانت دکھانے کے کچھ نہیں بولی، ان بزداروں کو لگانے کا جو نقصان عمران خان اٹھا رہے ہیں، امید ہے اُن کو احساس ہوگا۔
انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا چاہیئے کہ آپ انقلاب لانا چاہتے ہیں یا سیاسی اسپیس لینا چاہتے ہیں؟ اگر آپ انقلاب لانا چاہتے ہیں تو پھر آپ پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھ سکتے ، پھر آپ کمیٹی کمیٹی نہیں کھیل سکتے، پھر آپ باہر نکلیں اور لوگوں کو متحرک کریں، پھر دیکھیں باقی بھی جیلوں میں جائیں گے۔
وہ مواقع ضائع کردیئے جب آپ کو سڑکوں پر ہونا چاہئے تھا۔ اب پارلیمنٹ میں ہیں تو آپ کو سیاسی اسپیس لینی ہے، لیکن وزیراعظم آپ کو بلا رہا ہے آپ کہتے ہیں کہ فارم 47 کے وزیراعظم ہیں لیکن آپ نے اسی فارم 47 کے وزیراعظم ہونے ہوئے اپوزیشن لیڈر کیلئے نوٹیفکیشن قبول کیا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو، پھر آپ کو مذاکرات کرنے چاہئیں۔
تحریک انصاف کی پارلیمانی اور سیاسی لیڈرشپ نے چوبیس گھنٹوں میں کوئ اٹھتالیس بیان بدلے ہیں! حالت یہ ہے کہ عمران خان کے پورے خاندان کی نظربندی میں تیس دن کی توسیع ہر تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین کی قیادت کی قیادت سوائے دانت دکھانے کے کچھ نہیں کر ہوئ لیکن عہدوں سے چمٹے رہنے کا نام سیاست رکھ لیا ہے۔۔ ان بزداروں کو لگانے کا جو نقصان عمران خان اٹھا رہے ہیں امید ہے ان کو احساس ہو گا کہ نا اھل لوگوں کو کگاانا صرف نقصان دیتا ہے!!
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) October 26, 2026
فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی اور سیاسی لیڈرشپ نے چوبیس گھنٹوں میں کوئی اڑتالیس بیان بدلے ہیں! حالت یہ ہے کہ عمران خان کے پورے خاندان کی نظربندی میں تیس دن کی توسیع پر تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین کی قیادت سوائے دانت دکھانے کے کچھ نہیں بولی، لیکن عہدوں سے چمٹے رہنے کا نام سیاست رکھ لیا ہے، ان بزداروں کو لگانے کا جو نقصان عمران خان اٹھا رہے ہیں، امید ہے ان کو احساس ہوگا کہ نااہل لوگوں کو لگانا صرف نقصان دیتا ہے۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی گئی، جسٹس عبہر گل خان نے سابق وزیراعظم کی بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں سیکرٹری داخلہ پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل عدالت میں پیش ہوئے عظمیٰ خان کے شوہر اور علیمہ خان کے بیٹے بھی پیش ہوئے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تینوں بہنوں کی نظر بندی میں 30 روز کی توسیع کی گئی تھی جبکہ 7 اکتوبر کو بھی نظر بندی میں توسیع کی گئی درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ تینوں بہنوں کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا جائے. عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا تھا لیکن درخواست میں ڈپٹی کمشنر کو فریق نہیں بنایا گیا۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کو معلوم ہونا چاہیے کہ عدالت درخواست سے باہر جا کر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔ لاہور ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔
