حفیظ اللہ نیازی نے کسی سے پوچھا کہ یہ نظام کب تک چلے گا؟ جواب ملا کہ 2035 تک ! محمد زبیر


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) معاشی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر عمر نے کہا ہے کہ حفیظ اللہ نیازی نے کسی سے پوچھا کہ یہ نظام کب تک چلے گا؟ جواب ملا کہ 2035 تک ! جس پر انہوں نے پھر پوچھا کہ 2036 میں کیا ہوگا؟ اس پر سب خاموش ہوگئے، آپ ایران، چین، سعودیہ یا مغربی ممالک سے پوچھیں تو کہیں گے یہی نظام چلےگا، لیکن یہ واحد ملک ہے جہاں ایک شخص کے گرد سارا نظام چلتا ہے۔
انہوں نے ایک ہوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کو برباد کرنے میں ان نام نہاد پڑھے لکھے دانشوروں کا کردار ہے، کیونکہ عام پاکستانی کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے یہ باتیں سمجھ آتی ہیں۔
یہ پڑھا لکھا طبقہ ہر دس سال بعد ایک نئے نظام کی باتیں شروع کر دیتا ہے۔
ایک سیمینار میں، جب نظام کے حوالے سے بات ہو رہی تھی تو حفیظ اللہ نیازی نے کسی سے پوچھا کہ یہ نظام کب تک چلے گا؟ آگے سے ایک صحافی (جن کا میں نام نہیں لوں گا) نے جواب دیا کہ 2035 تک تو یہی نظام رہے گا۔
اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ 2035 تک کیوں؟ حفیظ اللہ نیازی نے بالکل درست سوال کیا کہ تو پھر 2036 میں کیا ہوگا؟ اس پر سب خاموش ہو گئے اور سب کو سمجھ آ گئی کہ انہوں نے کتنی زبردست بات کہی ہے۔
جو ملک بیٹھ کر یہ کہے کہ ہمیں نہیں معلوم 2036 میں کیا ہونے والا ہے تو پھر کیا ہوگا۔ کسی ایرانی سے پوچھیں وہ بتائے گا کہ 2036 میں بھی یہی نظام چلے گا۔

چین، سعودی عرب یا مغربی ممالک سے پوچھیں تو وہاں بھی یہی جواب ملے گا۔
یہ واحد ملک ہے جہاں کے پڑھے لکھے حامیوں اور حواریوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ ایک شخص کے گرد سارا نظام چلاتے ہیں۔ جس طرح میں کہتا ہوں کہ اگر ایوب خان اس نظام کے اتنے ہی ہمدرد تھے تو انہیں اعلان کر کے چلے جانا چاہیے تھا، تب پتہ چلتا کہ وہ مخلص ہیں، اور یہی بات مشرف اور ضیاء صاحب کے حوالے سے ہے۔ لیکن چونکہ وہ خود کو طاقتور اور اقتدار میں رکھنے کے لیے سارا نظام تبدیل کر رہے تھے، اس لیے ایسے نظام پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور وہ دھڑام سے گر جاتا ہے۔
یہ واضح طور پر ایک جنگ ہے، میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں یا مفاد پرست ہیں، وہ اپنی منطق کے مطابق کرتے ہیں، لیکن ان میں سوچ کا فقدان یقینی طور پر موجود ہے۔
میں نے فہد حسین کے ساتھ ایک پروگرام میں بھی یہی سوال کیا تھا کہ ہم ایک فرد کے گرد کیوں گھومتے رہتے ہیں؟ پہلے سب باجوہ کے گرد گھوم رہے تھے، ساری اسمبلی نے کھڑے ہو کر انہیں توسیع کا ووٹ دے دیا۔
آج ان 350 لوگوں میں سے کسی کو بلا کر پوچھیں کہ ووٹ کیوں دیا تھا؟ تو اگر کوئی سچ بولے گا تو اس کا ایک ہی جواب ہوگا: ہم ڈرے ہوئے تھے، ہمیں خوف تھا۔
محمد زبیر عمر نے کہا کہ جس قسم کا دباؤ پچھلے چار سالوں سے ہے۔ آپ اس تاریک رات کو دیکھیں کہ کہاں سے شروع ہوئے تھے اور یہ بڑھتا ہی چلا گیا، اور یہ سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ ابھی حالیہ اغوا کو دو ہفتے گزر چکے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ، جو کہ پورے ملک کے واحد منتخب وزیرِ اعلیٰ ہیں اور سب اس بات سے متفق ہیں، انہیں اغوا کر لیا گیا۔ پارٹی کے خیبر پختونخوا کے صدر، جنید اکبر کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسپیکر۔۔۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اسپیکر کو بھی دھر لیا جائے اور اغوا کر لیا جائے، اور پتہ بھی نہ چلے کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے کیا کیا ہے؟ ان پر کیا الزام لگایا گیا ہے؟ کچھ نہیں! تو ہم ان حالات میں ہیں، اور پاکستان اس وقت ان ہی حالات سے گزر رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert