تحریک انصاف سے فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ وہ انقلاب لانا چاہتے ہیں یا سیاسی جگہ لینی مقصد ہے، فواد چوہدری

دونوں کیلئے حکمت عملی مختلف ہے لیکن یہ قیادت دو ہفتے انقلاب اور چار ہفتے مذاکرات کا فارمولا اپناتی ہے، پتہ نہیں چل رہا کہ چاہتے کیا ہیں؛ سابق وفاقی وزیر کی گفتگو


لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی اور پارلیمانی فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پارٹی کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ملک میں انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے یا محض پارلیمنٹ میں بیٹھ کر سیاسی اسپیس حاصل کرنا چاہتی ہے کیونکہ دونوں مقاصد کے لیے حکمت عملی یکسر مختلف ہوتی ہے۔
اس حوالے سے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کو شدید آڑے ہاتھوں لیا، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت کا یہ عجیب تضاد ہے کہ وہ دو ہفتے سخت انقلابی باتیں کرتے ہیں اور اگلے چار ہفتے مذاکرات کا فارمولا اپناتے ہیں، جس سے یہ بالکل واضح نہیں ہو پاتا کہ اصل میں ان کا مقصد کیا ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر پارٹی کا ہدف انقلاب لانا ہے تو پھر پارلیمنٹ کے اندر بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، اور نہ ہی کمیٹی کمیٹی کا کھیل کھیلا جا سکتا ہے، ایسے میں قیادت کو باہر نکل کر عوام کو سڑکوں پر متحرک کرنا ہوگا، جس کے نتیجے میں جیلوں کے دروازے بھی کھلیں گے، تحریک انصاف نے وہ سنہری مواقع ضائع کردیئے ہیں جب پارٹی کو عملی طور پر سڑکوں پر ہونا چاہیے تھا، اگر آپ نے پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور سیاسی اسپیس لینی ہے تو پھر اصولوں پر قائم رہیں۔


سابق وزیر نے موجودہ پارلیمانی رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے بلائے جانے پر ایک طرف آپ انہیں فارم 47 کی حکومت قرار دیتے ہیں، لیکن دوسری طرف اسی نظام کے تحت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن اور عہدہ خوشی سے قبول بھی کرلیتے ہیں، یہ منافقت نہیں چل سکتی کہ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو، لہٰذا اگر پارلیمنٹ کا حصہ بننا ہے تو پھر سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
فواد چوہدری یہ بھی کہہ چکے ہیں پی ٹی آئی کی پارلیمانی اور سیاسی قیادت نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اپنے بیانات کم از کم اڑتالیس بار بدلے ہیں، عمران خان کے پورے خاندان کی غیر قانونی نظربندی میں مزید تیس دن کی توسیع کر دی گئی ہے، لیکن تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی موجودہ قیادت اس سنگین معاملے پر احتجاج کرنے کے بجائے محض خاموشی سمیٹے بیٹھی ہے اور صرف دانت دکھانے پر اکتفا کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ محض عہدوں اور کرسیوں سے چمٹے رہنے کا نام سیاست نہیں ہے، ناتجربہ کار اور نااہل لوگوں کو اہم عہدوں پر فائز کرنے کی جو بھاری قیمت آج عمران خان اٹھا رہے ہیں، امید ہے کہ اس کا انہیں شدید احساس ہوگا، نااہل اور مفاد پرست ٹولے نے تحریک انصاف کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور وقت آ گیا ہے کہ جماعت ہوش کے ناخن لے کر اپنے لائحہ عمل کو واضح کرے۔

WhatsApp
Get Alert