بیرسٹر گوہر کو یہ بات بتا دی گئی تھی کہ خیبرپختونخواہ حکومت پی ٹی آئی کے فرشتوں کو بھی واپس نہیں کی جائےگی، منیب فاروق

جو ’کاؤ بوائے اسٹائل آف پالیٹکس‘ ہے، وہ کسی بھی جماعت کی برداشت نہیں کی جائے گی، چاہے وہ تحریک انصاف ہو یا کوئی اور جماعت ہو! سینئر صحافی منیب فاروق


لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی تجزیہ کار منیب فاروق کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر کو یہ بات بتا دی گئی تھی کہ خیبرپختونخواہ حکومت پی ٹی آئی کے فرشتوں کو بھی واپس نہیں کی جائے گی۔ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر خان نے محسن نقوی سے ملاقات بھی کی ہے، بیرسٹر گوہر کو یہ بات بہت پہلے بتا دی گئی تھی کہ تحریک انصاف کے فرشتوں کو بھی اب خیبرپختونخواہ حکومت واپس نہیں کی جائے گی۔
اور جو کاؤ بوائے اسٹائل آف پالیٹیکس ہے وہ کسی بھی جماعت کا برداشت نہیں کیا جائے گا چاہے وہ تحریک انصاف ہو یا کوئی اور جماعت ہو !
کیا بارگین کا مطلب یہ ہوگا کہ ووٹوں کے بدلے عمران خان کی رہائی ہوسکے گی؟ اس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
جو ریلیف مل سکتا ہے اس کی نوعیت الگ ہے، عمران خان کی رہائی کیلئے ریلیف ملنے کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے۔

سینئر صحافی عاصہ شیرازی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کیلئے بڑے فیصلہ کن لمحات ہیں، ایک طویل وقت اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے ڈیمانڈ رہی ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت کے طور اپنا سفر شروع کرے، خود کو سیاسی مزاحمتی جماعت نہ بنائیں۔ کل کی پارلیمانی میٹنگ میں سیاسی اعتبار سے اسٹریٹجی کو بنایا جائے۔
سیاسی جماعت کی عوام بڑی مقبولیت ہے، خود احتسابی کا عمل شروع کررہی ہے، ڈائیلاگ کا دروازہ بند نہیں کریں گے، کچھ لواور کچھ دو کی بنیاد پر بات کریں گے، یہ ایک اچھا سائن ہے۔
حکومت مضبوط قدموں پر کھڑی ہے، کے پی میں وہ تبدیلی چاہتے تھے تو کسی نے مزاحمت نہیں کی گئی۔ ارکان کا ایسا گروپ بھی ہے جو حکومت کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار ہے۔ پی ٹی آئی اب ان کارڈز پر کھیلنے کی کوشش کرے گی جو بچ گئے ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں پہلی بات خود احتسابی ہو رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert