کل تک پی ٹی آئی مولانا کے بقول ایک صیہونی جماعت تھی، خواجہ آصف


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیردفاع خواجہ آصف نے سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کی پی ٹی آئی کی حمایت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ مولانا نے ان کو ( پی ٹی آئی ) دائرہ اسلام میں داخل کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کے بعد ایکس پر اپنے اپنی پوسٹ میں خواجہ آصف نے کہا کہ کل تک تحریک انصاف مولانا کے بقول ایک صیہونی جماعت تھی۔
بظاہر پیار سلوک سے لگتا ہے اب مولانا نے ان کو دائرہ اسلام میں داخل کر لیا ہے۔ مولانا نے لمبا ثواب کمایا ہے۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے طعنے دیتے ہیں کہ کچھ شرم کرو، کچھ حیا کرو، میں کہتا ہوں کہ آپ بھی ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، گزشتہ چالیس برس کی سیاست میں آپ نے کن کن مراعات سے فائدہ اٹھایا آپ کن اصولوں کی ترویج کرتے رہے اور کن اصولوں کی خلاف ورزی خود کرتے رہی آپ دوسروں کو جن اصولوں کا درس دیتے ہیں کیا آپ نے خود بھی کبھی ان پر عمل کیا کوئی ایوان کو بتائے کہ دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کے دوران انہوں نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا جس سے مسئلہ کشمیر کو کوئی فائدہ پہنچا ہو کشمیر کاز کے لیے ان کی خدمات کیا ہیں سوائے اس کے کہ اس منصب سے مراعات حاصل کیں اور مفت کی سواری سے لطف اندوز ہوتے رہے اس کے باوجود وہ ایسی پوزیشن اختیار کرتے ہیں جو ان کے اپنے ماضی کے موقف سے متصادم ہے، ان کی پوری سیاسی تاریخ تضادات سے بھری پڑی ہے لیکن گفتگو ایسے کرتے ہیں جیسے وہ آبِ زمزم سے دھلے ہوئے ہوں، حقیقت یہ ہے کہ اس ایوان میں کوئی بھی شخص یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ وہ ہر عیب سے پاک ہے۔
وزیردفاع نے کہاکہ مولانافضل الرحمان نے افغانستان کے حوالے سے بات کی کہ وہ وہاں جانے کے لیے تیار تھے، سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس وقت وزیر خارجہ تھے کہ وہاں جاتی انہوں نے کس تناظر میں اور کس کے حوالے سے یہ پیشکش کی تھی انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا تھا کہ وزیر دفاع یا وزیر خارجہ کو ایران یا افغانستان جانا چاہیے لیکن وہ خود کس حیثیت سے اپنی خدمات پیش کر رہے تھی بظاہر اس کے پیچھے اپنی سیاست میں اضافی اہمیت پیدا کرنے، اسے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے اور حکومت سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بھائی سیاسی طور پر یتیم ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے بھی مولانا کے سائبان تلے پناہ لے لی ہے اور گویا خود کو ان کا سیاسی متبنی بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دوسروں کو شرم و حیا کا درس دیتے ہیں، انہیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے، مولانا نے مشرف دور میں نورا کشتی کے ذریعے اپوزیشن لیڈر کا منصب حاصل کیا اور ساتھ ہی خیبرپختونخواہ میں طویل عرصے تک حکومت کے مزے بھی لوٹے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے کشمیر کاز کے لیے سوائے مراعات اور پروٹوکول حاصل کرنے کے کیا خدمت کی ہے؟ جتنے اعزازات اور عہدے انہیں دیئے گئے، اب یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ سب فیصلے غلط تھے، پی ڈی ایم کی دورِ حکومت میں بھی مولانا نے کیا کچھ گھپلے کیے ہیں، اگر میرا منہ کھلوا بیٹھے تو سب کے سامنے حقائق آ جائیں گے۔
وزیر دفاع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مولانا اپنا ماضی مکمل طور پر بھلا کر سیاسی مخالفین پر تنقید کے تیر برساتے ہیں، لیکن کم از کم مجھ میں اتنی اخلاقی جرأت ضرور ہے کہ جب میں پارلیمنٹ میں بولتا ہوں تو مجھے اپنا ماضی صاف نظر آتا ہے اور اس بات کا خیال رہتا ہے کہ کہیں مجھ پر بھی ماضی کے حوالے سے انگلیاں نہ اٹھائی جائیں۔
اس موقع پر خواجہ آصف نے اس بات کا بھی دفاع کیا کہ جب میں خود کسی موقع پر فوج یا ہائبرڈ سسٹم کے حق میں بات کرتا ہوں تو میری پرانی تقاریر کا حوالہ دے کر مجھے طعنے دیئے جاتے ہیں حالانکہ میرا ہر مؤقف اور تقریر اپنے وقت کے مخصوص پس منظر اور سیاسی تناظر کے مطابق درست ہوتی ہے، سیاست میں منافقت کی روش کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور وہ ہر ناقد کو اس کے ماضی کے آئینے میں جواب دینے کا پورا حق رکھتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert