پاکستان میں نیا قومی نصاب منظور، تعلیمی سال 2027-28 سے سرکاری و نجی اسکولوں میں نافذ ہوگا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزارتِ تعلیم نے ملک بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں کے لیے نیا قومی نصاب 2026 منظور کر لیا ہے، جس پر عملدرآمد تعلیمی سال 2027-28 سے شروع ہوگا۔ نئے نصاب کا ابتدائی نفاذ ابتدائی بچپن کی تعلیم (Early Childhood Education) سے لے کر پانچویں جماعت تک کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق نیا قومی نصاب اسلام آباد سمیت وفاقی تعلیمی اداروں میں متعارف کرایا جائے گا، جبکہ اس کا دائرہ کار مرحلہ وار ملک بھر کے تعلیمی اداروں تک بڑھایا جائے گا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزارتِ تعلیم نے پنجاب سمیت تمام صوبوں کو نئے نصاب پر عملدرآمد کے لیے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
نئے نصاب کے تحت اردو، انگریزی اور ریاضی بنیادی مضامین کے طور پر برقرار رہیں گے، جبکہ ابتدائی جماعتوں میں طلبہ کی جسمانی، ذہنی اور تخلیقی نشوونما کے لیے صحت و جسمانی تعلیم (Health and Physical Education) اور آرٹس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
نصاب میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت پہلی سے پانچویں جماعت تک طلبہ کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم فراہم کی جائے گی تاکہ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جا سکے۔
نئے نصاب میں مختلف جماعتوں کے مضامین کی ترتیب میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلی سے تیسری جماعت تک طلبہ کو ’’ہمارے اردگرد کی دنیا‘‘ (World Around Us) کے عنوان سے مضمون پڑھایا جائے گا، جبکہ چوتھی اور پانچویں جماعت میں سماجی علوم (Social Studies) اور سائنس کو الگ الگ مضامین کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔
وفاقی وزارتِ تعلیم کے مطابق نیشنل کریکولم آف پاکستان 2026 کو پاکستان نیشنل کریکولم کونسل کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب کیا جائے گا، جہاں سے تعلیمی ادارے، اساتذہ اور دیگر متعلقہ افراد نئے نصاب کی تفصیلات حاصل کر سکیں گے۔
نئے قومی نصاب کا مقصد سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایک مشترکہ تعلیمی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے تاکہ ابتدائی بچپن کی تعلیم سے لے کر پرائمری سطح تک طلبہ کو یکساں تعلیمی معیار اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جا سکے۔
